منگل‬‮ ، 13 اکتوبر‬‮ 2026 

پڑوسی ممالک کو دیکھ کر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرینگے: عمران خان

datetime 21  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد ( آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے سے متعلق پڑوسی ممالک کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرینگے،افغانستان میں جامع حکومت تشکیل نہ دی گئی تو خانہ جنگی ہوگی، افغانستان کو دہشتگردوں کی جائے پناہ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے جو پاکستان کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، افغانستان میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے

روکنا غیر اسلامی ہوگا ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے بی بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا ۔ عمران خان نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ مل کر چلیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان کو ایسے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ پچھلے ہفتے طالبان نے سیکنڈری سکولوں میں لڑکیوں کو نہیں جانے دیا تھا اور صرف لڑکوں اور مرد اساتذہ کو ہی واپس جانے کی اجازت دی تھی۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کہناتھا کہ انھیں یقین ہے کہ لڑکیاں جلد ہی سکولوں میں واپس جا سکیں گی۔ عمران خان نے بتایا کہ ’انھوں (طالبان) نے اقتدار میں آنے کے بعد جو بیانات دیے ہیں وہ بہت حوصلہ افزا ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ خواتین کو سکولوں میں جانے کی اجازت دے دیں گے۔ یہ خیال ہی اسلامی نہیں ہے کہ خواتین کو تعلیم نہیں دینی چاہیے۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے جو شرائط ہیں طالبان حقیقت میں ان پر پورا اتریں گے، تو عمران خان نے بین الاقوامی برادری سے بار بار طالبان کو مزید وقت دینے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا ’اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہو گا۔ نہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر پڑوسی ریاستوں کے ساتھ مل کر اس بات پر فیصلہ کرے گا کہ طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’تمام پڑوسی اکٹھے ہوں گے اور دیکھیں گے کہ وہ کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔‘ ’انھیں تسلیم کرنا ہے یا نہیں یہ ایک اجتماعی فیصلہ ہو گا۔‘ عمران خان نے طالبان سے شمولیتی حکومت بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ملک میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ ’اگر آج یا کل تمام دھڑوں کو شامل نہ کیا گیا تو خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک غیر مستحکم افغانستان اور دہشت گردوں کے لیے ایک مثالی جگہ۔ یہ پریشانی کی بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…