ہفتہ‬‮ ، 22 جون‬‮ 2024 

6 ہزارکے ڈیسک کی 29 ہزار میں خریداری کرپشن کا نیا سیکنڈل سامنے آگیا، ہوشربا انکشافات

datetime 14  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کرکے انہیں شکایت کی ہے کہ صوبے کا محکمہ تعلیم مبینہ طور پر دو افراد کے بیٹھنے کیلئے استعمال ہونے والی ڈیسک 320 فیصد اضافی قیمت پر خرید رہا ہے جس سے قومی خزانے کو نقصان ہو رہا ہے۔ روزنامہ جنگ میں انصارعباسی کی شائع خبر کے مطابق

سید مراد علی شاہ کو لکھے گئے خط میں ٹی آئی پی نے کہا ہے کہ صوبے کے سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے 10 جون 2021 کو صوبے کے اسکولوں میں ڈیسکوں کی سپلائی اور ڈیلیوری کیلئے چار ٹھیکے دیے جن کی مالیت پانچ ارب روپے ہے۔ جن کے مطابق ایک ڈیسک کی قیمت 23 ہزار 985 روپے سے 29 ہزار 500 روپے بشمول ٹیکس کے درمیان ہے۔ ٹی آئی پی کا کہنا تھا کہ اِتنی ہی تعداد میں ڈیسکوں کی خریداری کیلئے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ دو سال قبل یعنی 17 فروری 2019 کو بھی ایسا ہی ٹھیکہ جاری کر چکا ہے۔ اس حوالے سے آنے والی بولیوں میں ایک ڈیسک کی زیادہ سے زیادہ قیمت 5700 روپے سے 6860 روپے بشمول ٹیکس تھی۔ تاہم، محکمے نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس قیمت پر ٹھیکہ نہیں دیا۔ ٹی آئی پی کا کہنا تھا کہ 5700 روپے فی ڈیسک قیمت کا 23 ہزار 985 روپے فی ڈیسک کے ساتھ تقابل کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ 320 فیصد اضافی نرخوں پر نیا ٹھیکہ

دیا گیا ہے جس سے قومی خزانے کو 3.3 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ ٹی آئی پی کے خط میں کہا گیا ہے کہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے انجینئرنگ کے انتہائی مہنگے تخمینے (24500 فی ڈیسک) لگائے ہیں حالانکہ اوپن بڈنگ میں دیکھیں تو مارکیٹ کے نرخوں کے مطابق محکمے کو دیے گئے تخمینے میں بتایا گیا تھا کہ ڈیسک کی قیمت صرف

6860 روپے ہے۔ ٹی آئی پی نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ اگر قیمتوں میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا خیال بھی ذہن میں رکھا جائے تو ڈیسک کی قیمت 9 ہزار روپے ہو سکتی ہے اور یہ قیمت ڈھائی سال کی مہنگائی کے باوجود ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سے ٹی آئی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کے افسران کیخلاف اور

ٹھیکے داروں کیخلاف کارروائی کی جائے جو اربوں روپے کے نقصان کے ذمہ دار ہیں۔ ٹی آئی پی نے وزیراعلیٰ سندھ کو یہ شکایت بھی کی ہے کہ 2019 کے ماہِ اپریل میں ٹی آئی پی نے وزیراعلیٰ سے کہا تھا کہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے ڈیسکوں کی خریداری کیلئے کم سے کم بولی دینے والے کو ٹھیکا نہیں دیا، ٹی آئی پی نے اس پر احتجاج بھی

کیا تھا۔اس کے بعد ایک مرتبہ پھر 23 اگست 2019 کو ٹی آئی پی نے سیکریٹری ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ چونکہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کی کارروائی میں شفافیت نہیں لہذا ٹی آئی پی جائزہ کمیٹی میں بطور مبصر شامل نہیں ہوگی۔ ٹی آئی پی نے وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کی ہے کہ الزامات کا جائزہ لیا جائے اور اگر یہ درست ہیں تو بے ضابطگیوں میں ملوث حکام کیخلاف کارروائی کی جائے۔

موضوعات:



کالم



صدقہ‘ عاجزی اور رحم


عطاء اللہ شاہ بخاریؒ برصغیر پاک و ہند کے نامور…

شرطوں کی نذر ہوتے بچے

شاہ محمد کی عمر صرف گیارہ سال تھی‘ وہ کراچی کے…

یونیورسٹیوں کی کیا ضرروت ہے؟

پورڈو (Purdue) امریکی ریاست انڈیانا کا چھوٹا سا قصبہ…

کھوپڑیوں کے مینار

1750ء تک فرانس میں صنعت کاروں‘ تاجروں اور بیوپاریوں…

سنگ دِل محبوب

بابر اعوان ملک کے نام ور وکیل‘ سیاست دان اور…

ہم بھی

پہلے دن بجلی بند ہو گئی‘ نیشنل گرڈ ٹرپ کر گیا…

صرف ایک زبان سے

میرے پاس چند دن قبل جرمنی سے ایک صاحب تشریف لائے‘…

آل مجاہد کالونی

یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے‘ میرے ایک دوست کسی…

ٹینگ ٹانگ

مجھے چند دن قبل کسی دوست نے لاہور کے ایک پاگل…

ایک نئی طرز کا فراڈ

عرفان صاحب میرے پرانے دوست ہیں‘ یہ کراچی میں…

فرح گوگی بھی لے لیں

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…