منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

کووڈ کے مریضوں میں صحت یابی کے بعد گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف

datetime 2  ستمبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے متعدد افراد کو بیماری سے سنبھلنے کے بعد کئی ہفتوں یا مہینوں تک مختلف علامات کا سامنا ہوتا ہے اور لانگ کووڈ کے مریضوں میں گردوں کے افعال نمایاں حد تک متاثر ہوتے ہیں۔درحقیقت ایسا ان افراد کے ساتھ بھی ہوتا ہے جن میں کووڈ کی شدت معمولی ہوتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا

میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں امریکی ہیلتھ ڈیٹا کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا تھا اور دریافت ہوا کہ کورونا وائرس سے گردوں کو نقصان پہنچنے، دائمی اور آخری مرحلے کے گردوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔گردوں کے افعال متاثر ہونے اور امراض کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے کہ کیونکہ اکثر تکلیف اور علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔کڈنی فائنڈیشن کے تخمینے کے مطابق گردوں کے مسائل کے شکار 90 فیصد افراد کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔اس تحقیق یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ویٹرنز افیئرز کے یکم مارچ 2020 سے یکم مارچ 2021 تک کے 17 لاکھ صحت مند اور کووڈ سے متاثر افراد کے میڈیکل ریکارڈز کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ان افراد میں سے 89 ہزار 216 میں کووڈ کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے زیادہ تر مرد تھے اور ان کی عمر 60 سے 70 سال کے درمیان تھیں مگر محققین نے الگ سے ایک لاکھ 51 ہزار سے زیادہ خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ بھی کیا جن میں

سے 8817 میں کووڈ کی تصدیق ہوئی۔محققین کا کہنا تھا کہ گردوں کے افعال میں نمایاں کمی کا خطرہ سب سے زیادہ آئی سی یو میں داخل ہونے والے مریضوں کو ہوتا ہے مگر یہ بھی اہم ہے کہ اس خطرے کا سامنا تمام مریضوں کو ہوسکتا ہے، چاہے بیماری کی شدت معمولی ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیق کے نتائج کووڈ کے مریضوں میں

گردوں کے افعال اور امراض پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، لاکھوں افراد کو اندازہ ہی نہیں کہ وائرس سے ان کے گردوں کے افعال متاثر ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ امریکا میں کووڈ کے مجموعی مریضوں میں سے 5 لاکھ 10 ہزار افراد کے گردوں کو نقصان پہنچ چکا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ابتدائی مرحلے

میں گردوں کے مسائل کو دریافت کرلیا جائے، ورنہ اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔محققین کے مطابق گردوں کے مسائل کا عموما علم ہی اس وقت ہوتا ہے جب کوئی فرد کسی وجہ سے اپنا طبی معائنہ کراتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ سے محفوظ رہنے والے افراد کے مقابلے میں اس کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے افراد میں گردوں کے امراض کا خطرہ

15 فیصد جبکہ گردوں کی اننجری کا خطرہ 30 فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح کووڈ سے ہسپتال اور آئی سی یو میں زیرعللاج رہنے والے افراد میں یہ خطرہ 8 سے 13 3گنا تک بڑھ جاتا ہے۔محققین نے بتایا کہ ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ آنے والے برسوں میں لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے افراد کو کن طبی مسائل

کا سامنا ہوسکتا ہے۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ کووڈ کی بتدائی بیماری کے 30 دن بعد 4757 مریضوں کے گردوں کے افعال میں 30 فیصد یا اس سے زیادہ کمی آئی۔محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جن افراد کو کووڈ کی معمولی شدت کا سامنا ہوتا ہے ان میں گردوں کے افعال میں کمی کا خطرہ 1.09 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں 2 گنا جبکہ آئی سی یو میں رہنے والے مریضوں میں 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…