میرے فلیٹ کی قیمت 2 کروڑ سے زیادہ ہے پوری زندگی کی جمع پونجی اس پر لگا دی نسلہ ٹاور گرانے کے حکم کے بعد رہائشی حلیمہ اور دیگر کہانی بتاتے ہوئے رو پڑے

  منگل‬‮ 22 جون‬‮ 2021  |  20:26

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہم نے بڑی محنت سے پیسہ جمع کر کے یہ فلیٹ خریدے ہیں، ان فلیٹس میں سب ملازم پیشہ افراد رہائش پزیر ہیں۔ ہمیں ہمارے پیسے ملنے تک ہم یہ اپارٹمنٹ نہیں چھوڑیں گے۔ ہماری ویب کے مطابق ایک اور رہائشی کا کہنا ہے کہ میں 58 سال کا ہوں اب جبمجھے لیز ملنے کا وقت آیا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ یہ اپارٹمنٹ غیر قانونی ہے۔ ہم نے حکومت پاکسان کے تمام قوانین


پرعمل درآمد کیا ہے۔ ہمیں ایک سرپرائز دیا جا رہا ہے کہ اب یہ گھر خالی کردو۔ جبکہ ایک اور رہائشی نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ ہماری سنی جا رہی ہے اور نہ ہی ہمیں ہمارا معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہوئے رہائشی کا کہنا ہے کہ ہمارا قصور کیا ہے؟ نسلہ ٹاور کی رہائشی حلیمہ سعدیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی ہے، اس اپیل میں حلیمہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ گھر 4 سال پہلے ڈھائی کروڑ روپے میں خریدا تھا، میں نے اس گھر کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا دی تھی، اب ہمیں کہا جا رہا ہے کہ یہ اپارٹمنٹ غیر قانونی ہے۔ ہم اس وقت شدید اذیت میں مبتلا ہیں، بلڈر نے ہمیں پیسے واپس دینے سے صاف انکار کر دیا ہے جبکہ اور کوئی دوسرا سہارہ ہے نہیں ہمارے پاس۔ حلیمہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ اپارٹمنٹ ناجائز تھا تو اسے تعمیر کیوں ہونے دیا؟، سپریم کورٹ نے اس اپارٹمنٹ کی تعمیر کے وقت ہی ایکشن کیوں نہیں لیا؟ ہم اپنے گھروں سے کیوں نکلیں؟ جس پر ہم نے زندگی بھر کی جمع پونجی لٹا دی ہو۔ اگر بلڈر نے غیر قانونی جگہ پر قبضہ کیا اور افسران اس ملی بھگت میں شامل تھے، تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟۔ ہمیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ میں اپیل کرتی ہوں کہ آپ بلڈر کو پکڑیں اور ہمیں ہمارے پیسے واپس دلوائیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نسلہ ٹاور کو گرائے جانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔دوسری جانب نسلہ ٹاور کراچی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتوار کو گرما گرمی رہی اس سلسلے میں پہلی پریس کانفرس ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کےچیئرمین فیاض الیاس نے کی اور نسلہ ٹاور کے حق میں مؤقف پیش کیا اور آباد کے ملازمین کے ذریعے کراچی پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا اور آباد کے عہدیداروں نے اسے نسلہ ٹاور کے الاٹیز کا مظاہرہ قرار دینے کی کوشش کی لیکن نسلہ ٹاور کے الاٹیز کی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اتوار کی شام نسلہ ٹاوربلڈنگ پر ایک علیحدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس فلیٹس کے مکینوں کی جانب سے ولی موریا،پروفیسر امتیاز اور محمد علی نے کی لیکن جب صحافیوں نے یہ کہہ کراحتجاج کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر پہلے ان کا رویہ ساتھ عدم تعاون پر مبنی رہا تو فلیٹ کے مکین پھٹ پڑے اور صحافیوں سے معذرت کرتے ہوئے بتایاکہ ہمیں بلڈرز نے میڈیا سے دور رہنے کیلئے اپنے دباؤ میں رکھاہوا تھا اورہم بھی سارے معاملے سے خوفزدہ تھے اور یوں نسلہ ٹاور کے مکینوں نے گیگا والابلڈرکی پول کھول دی اس موقع پر بعض متاثرہ مکین فر ط جذبات سے دھاڑیں مار کرروتے رہے۔ دوسری جانب نسلہ ٹاور شاہراہ فیصل سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرہ مکینوں نےچیف جسٹس آ ف پاکستا ن سے بنیادی انسانی حقوق کے نام پر اپیل کی ہے کہ وہ نظر ثانی شدہ اپیل کو سننے تک مذکورہ بلڈنگ کو مسمار کرنے کا حکم معطل کر یں کیونکہ بلڈرز کی سماعت میں عدالت عظمی نے ان کے وکیل کو سنے بغیر اور مؤقف جانے بغیر بینج نے جو حکم صادر کیا ہے اس پر عملدرآمد سے ملک میں بڑا انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ لاحق ہو چکا ہے۔ان خیالات کااظہار اتوار کی شام نسلہ ٹاور الاٹیز ایکشن کمیٹی کراچی کے کنوینئر پرفیسر امتیاز،ڈاکٹر چتر کمار،ولی موریا،محمد علی،عبدالقادر سمیت دیگر متاثرین کی جانب سے بلڈنگ کے سامنے سڑک پر ہنگامی پریس کانفرنس اور متاثرین کے پر امن احتجاجی سے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں معمرمعذور مکینوں کے علاوہ خواتین اور معصوم بچوں کی بڑی تعداد رشریک تھی۔ایکشن کمیٹی کےرہنماؤں نے کہا کہ ہم نے زندگی بھر کی خون پسینے کی حلا ل کمائی سے حکومت اور متعلقہ اداروں کی مصدقہ اجازت ناموں کی دستاویز کی تصدیق کے بعد فلیٹس خریدے ہیں عدالت عظمی کی نظر میں اگر اسکی تعمیراتی میں کوئی بے قاعدگی ہے جرم کرنیوالوں کے بجائے ہمیں بے گھر کے کا حکم نہ صرف بنیادہ انسانی حقوق سے متصادم ہے بلکہ یہ شفاف انصاف پر بھی سوالیہ نشان ہے۔متاثرین نے چیف جسٹس سمیت صدر پاکستان،وزیر اعظم پاکستان،گورنر سندھ اور وزیر اعلی سندھ سمیت منتخباراکین اسمبلی،میڈیا،انسانی حقوق پر یقین رکھنے والی تمام طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی آواز بنیں اور ان کی بلاوجہ بربادی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔متاثرین کے مطابق وہ اپنے قانونی مشیروں کے مشورے کی روشنی میں ہنگامی نظر ثانی شدہ عدالت میں لیکر جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نسلہ ٹاور کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہے اور اس دکھ کا مداوا ساری زندگی نہیں ہو سکے گا اس لئے 44فلیٹ مالکان سمیت تقریبا پونے 200متاثرین اپنے فلیٹ بچانے کیلئے قانون کے مطابق ہر قدم اٹھائیں گے۔


زیرو پوائنٹ

صرف پانچ ہزار روپے کے لیے

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎