منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

برطانوی سکے جو پاکستان میں رائج رہے، پیچھے وجہ کیا تھی؟

datetime 13  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(تحریر :شکیل احمد خاں میو) آج ہم آپ کو کچھ ایسے نایاب و نادر سکہ جات سے روشناس کروائیں گے جو سکہ برطانوی حکومت کے تھے لیکن انہیں پاکستان میں ایک مجبوری اور وقتی ضرورت کے تحت رائج کرنا پڑا۔1947 کے آغاز میں جب پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست کے طور پر ابھرا تو پاکستان کے پاس فوری طور پر اپنے مالیاتی واقتصادی نظام کو منظم کرنے کا

کوئی خاطرخواہ انتظام موجود نہیں تھا۔تو ملک کی معاشی و اقتصادی ضرورت کے پیش نظر حکومت پاکستان کو برطانوی نظام کو ہی خودکفیل ہونے تک اپنانا پڑا تھا۔ اسی لیے ریاست پاکستان نے برطانیہ سے ایک معاہدے کے تحت ان کے برصغیر میں رائج سکوں کو پاکستان میں چلانا پڑا۔ 1948 تک یہ سکہ جات پاکستان میں رائج رہے۔ پھر پاکستان نے برطانوی سکوں کے ڈیزائن اور اس سے متوازی مالیت کو مدنظر رکھتے ہوۓ اپنے ذاتی سکہ جات بنواۓ۔ جنہیں برطانوی دور حکومت میں 1941 میں لاہور میں قائم کی گئی ٹیکسال (لاہورمنٹ ) سے ہی بنوایا گیا۔ اس سے پہلے برصغیر میں صرف دو ہی ٹکسال تھے جو کلکتہ اور بمبئی میں تھے۔ لیکن لاہور منٹ سے بنواۓ گئے سکوں میں دوسرے سکوں سے تفریق پیدا کرنے کے پیش نظر اس پر (L) کا منٹ مارک یعنی علامت ظاہر کی گئی۔ پاکستان کے نئے بناۓ گئے سکوں میں کرنسی کا نام اور (ڈیسی مل ویلیو ) اور (کرنسی یونٹ) بھی پہلے رائج شدہ برطانوی سکوں کی طرز پر رکھی گئی اور اس ڈیزائن کی باقاعدہ منظوری بھی قائداعظم محمد علی جناح نے بطور ریاست کے سربراہ کے دی۔کرنسی کے نام اور ویلیو درج ذیل تھیں اور نیچے ان کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…