ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

کلثوم نواز کی بیماری کو جعلی کہنے والے اب کیا کہیں گے؟ معروف صحافی طلعت حسین نے پروپیگنڈہ کرنیوالوں کو آئینہ دکھا دیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر معروف صحافی طلعت حسین نے ان کی بیماری کو جعلی اور جھوٹا ڈرامہ قرار دینے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا ۔ٹویٹر پر اپنے پیغام میں معروف صحافی طلعت حسین نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو جھوٹ کہنے والے اب ان کے انتقال پر کیا کہیں گے؟

بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اب ان تمام لوگوں کو ہمدرد بنتا ہوئے دیکھ رہے ہیں۔جبکہ ان کے شوہر نواز شریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز کی ضمانت کی اپیل کو بار بار مسترد کیا جاتا رہا۔طلعت حسین نے اپنے ایک اور ٹویٹر پیغام میں نواز شریف کی بیگم کلثوم نواز سے آخری گفتگو کی ویڈیو بھی شئیر کی۔واضح رہے اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء اعتزاز احسن نے شریف فیملی سے معافی مانگ لی ہے، شریف خاندان کی دل آزاری کرنے پرمعافی مانگتا ہوں۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنماء اعتزاز احسن نے شریف خاندان نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری سے متعلق بیان کرنے پرمعافی مانگ لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میری وجہ سے شریف خاندان کی دل آزاری ہوئی۔میں نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری سے متعلق شریف خاندان کی دل آزاری کی تھی۔ واضح رہے پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء4 اعتزاز احسن نے اس وقت اس بات پر بیانات دیے تھے کہ ہارلے اسٹریٹ کلینک شریف فیملی کا اپنا کلینک ہے ، ان کا جوبھی فرد بیمار ہوتا ہے اس کووہاں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس بیان پرشریف فیملی کی کافی دل آزاری ہوئی تھی تاہم آج بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اعتزاز احسن نے معافی مانگ لی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…