ہفتہ‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2025 

چین نے بھارت کے رحم و کرم پررہنے والے نیپال کیلئے ایسا اعلان کردیا کہ مودی حکومت ہکا بکا رہ گئی

datetime 7  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کھٹمنڈو( آن لائن ) چین نے نیپال کو اپنی 4 بندرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا،جو چاروں طرف سے خشکی سے گھرے ہونے کی وجہ تجارت کے لیے بھارت کے رحم و کرم پر ہے اور اس اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان واقع نیپال ایندھن سمیت اپنی بنیادی ضرورت کی اشیا کی فراہمی کے لیے بھارت پر انحصار کرتا ہے ۔

دیگر ممالک سے تجارت کے لیے اس کی بندرگاہیں استعمال کرتا ہے۔لیکن اب کھٹمنڈو بھارت پر انحصار کم کرتے ہوئے چین کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کرنے کا خواہش مند ہے کیوں کہ بھارت کے ساتھ منسلک سرحد پر سال 2015 سے 2016 سے جاری طویل ناکہ بندی سے ملک کو کئی ماہ سے ایندھن اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔نیپال کی وزارت کامرس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نیپال اور چین کے حکام نے کھٹمنڈو میں ہونے والے اجلاس کے دوران پروٹوکول کو حتمی شکل دی، جس کے تحت نیپال کو تیانجن، شینزین، لائینونگینگ، اور زنجیانگ کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ چین نے نیپال کو اپنی 3 زمینی بندرگاہیں اور سڑکیں استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا اور پروٹوکول پر دستخط ہونے کے بعد انتظامات کو عملی شکل دینے کا آغاز کردیا جائے گا۔اس ضمن میں نیپالی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگِ میل ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھارت کی 2 بندرگاہوں سمیت چین کی 4 بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔انہوں نے بتایا کہ جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان چین کے راستے سے لایا جاسکے گا جس سے وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی۔دوسری جانب زمینی راستے سے آنے والا سامان زیادہ تر مشرقی بھارت میں واقع کولکتہ کے راستے لایا جاتا ہے جس میں 3 ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔

تاہم نئی دہلی نے اپنی جنوبی بندرگاہ وشاکاپٹنم بھی نیپالی تجارت کے لئے کھول دی تھی۔ادھر نیپالی تاجروں کا کہنا ہے کہ چین سے منسلک ہونے کا فیصلے میں بہتر سڑکیں اور کسٹم کا نظام نہ ہونے کے سبب دشواریاں پیش آسکتی ہیں، خیال رہے کہ نیپال کا نزدیک ترین چینی بندرگاہ سے فاصلہ 26 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…