جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

آرمی چیف کس عظیم سپوت کے گھر پہنچ گئے قمر جاوید باجوہ کو دیکھ کر پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

datetime 6  ستمبر‬‮  2018 |

راولپنڈی (این این آئی)یوم دفاع و شہدا پر پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے وطن عزیز کیلئے جانوں کا نذزانہ پیش کرنے والے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور وہ شہید پولیس سب انسپکٹر کے گھر بھی گئے۔ جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی اہلیہ شہید سب انسپکٹر عباس کے گھر گئے

اور ان کی اہلیہ اور بیٹے سے ملاقات کی۔آرمی چیف نے وطن عزیز کے لیے قربانی دینے والے شہید عباس اور تمام شہدا کے لیے دعا کی اور کہا کہ ان شہدا نے مملکت خداداد پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہماری زندگیاں پاکستان کے لیے وقف ہیں۔اس موقع پر شہید سب انسپکٹر عباس کی والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے نے مجھے بہت ہمت دی اور کہا کہ ہمت نہیں ہارنی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کی جانیں اس وطن کے لیے ہیں اور میں آرمی چیف اور ان کی اہلیہ کی شکر گزار ہوں کہ وہ یہاں آئے۔اس موقع پر شہید عباس کے بیٹے نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرے والد نے اپنے فرائض منصبی نبھاتے ہوئے وطن کی خاطر جان قربان کی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف برسر پیکار ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے والد نے پیغام دیا کہ ہم کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور اسی مشن کو لے کر میں آگے چل رہا ہوں۔شہید عباس کے بیٹے نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ میرے گھر آئے اور میرے والد کی قربانیوں کو سراہا، آج ان کے دورے نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے اور اگر مجھے موقع ملا تو وطن عزیز کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…