منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

لوگ مذاق سمجھ رہے ہیں لیکن بوتل میں واقعی مرشد کا پڑھا ہوا پانی تھا’راحت فتح علی خان

datetime 6  فروری‬‮  2024 |

لاہور ( این این آئی) شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ انہوں نے جس بوتل کے لیے ملازم پر تشدد کیا، اس میں واقعی بھی ان کے مرشد کا پڑھا ہوا پانی تھا۔راحت فتح علی خان نے حال ہی میں ایک یوٹیوبر کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ دراصل ان کی پرانی ویڈیوز کو ریلیز کرنے کی مہم کے پیچھے ایک شخص ہے۔انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ مذکورہ ویڈیو پرانی ہے اور یہ بات بھی سچ ہے کہ جس شخص کو انہوں نے مارا، پیٹا، جس پر تشدد کیا، وہ ان کا ذاتی ملازم تھا اور ان سے انہوں نے اپنے رویے پر معافی بھی مانگی۔

راحت فتح علی خان نے کہا کہ لوگ ان کی بات کو مذاق سمجھ رہے ہیں لیکن واقعی ان کی غائب ہونے والی بوتل میں مرشد کا پڑھا ہوا پانی تھا۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان کی روحانی بات کو نہیں سمجھ رہے، وہ ان کا اور ان کے مرشد کا معاملہ ہے، اس بوتل میں ان کے مرشد کا پڑھا ہوا پانی تھا، جس وجہ سے وہ پریشان تھے۔انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بیرون ممالک ہونے والی شادیوں میں انہیں زیادہ تر بھارتی لوگ مدعو کرتے ہیں۔ان کے مطابق جب بھارتی لوگوں نے دیکھا کہ راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم انڈیا نہیں آ سکتے تو انہوں نے اپنی شادیاں دوسرے ممالک میں کرنا شروع کیں اور انہیں پرفارمنس کے لیے بلانے لگے۔انہوں نے بیرون ممالک ہونے والی شادیوں میں مدعو کرنے کے لیے بھارتیوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔راحت فتح علی خان نے یہ دعوی بھی کیا کہ وہ اپنے ساتھ پرفارمنس کرنے والے موسیقاروں کو سب سے زیادہ معاوضہ دیتے ہیں، پورے برصغیر میں کوئی بھی گلوکار ان جتنا معاوضہ موسیقاروں کو نہیں دیتا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 27 جنوری کوسوشل میڈیا پر راحت فتح علی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں انہیں گھریلو ملازم اور اپنے شاگرد کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔مذکورہ ویڈیو میں گلوکار ملازم سے بوتل کا پوچھتے رہے تھے، جس کے بعد ان پر خوب تنقید کی گئی اور بعد ازاں راحت فتح علی خان نے اپنے رویے پر معافی بھی مانگی تھی۔بعد ازاں ویڈیو میں ساتھ موجود ملازم نے بھی وضاحتی بیان دیا تھا کہا کہ ویڈیو میں جس بوتل کی وجہ سے تنازع کھڑا ہوا، اس میں پانی تھا اور وہ ان کے مرشد نے پڑھا ہوا تھا، وہ بوتل مجھ سے گم ہو گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…