جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

جاپان میں کرپٹوکرنسی کا کاروبار پچاس ارب ڈالر  سے تجاوز،پاکستان کو بھی اہم مشورہ دیدیا گیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2020 |

ٹوکیو (این این آئی)جاپان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کا حجم پچاس ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے، اس وقت جاپانی حکومت نے 23 میگا کرپٹو کرنسی ایکسچینج کو ملک میں کرپٹو کرنسی کے قانونی کاروبار کی اجازت دے رکھی ہے جہاں سے سالانہ چالیس سے پچاس ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جس میں سب سے زیادہ تجارت بٹ کوائن نامی کرنسی کی کی جاتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق

دنیا کے کئی بڑے ممالک جس میں امریکا، برطانیہ، جاپان اور بھارت سمیت درجنوں ممالک میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کی قانونی اجازت حاصل ہے جہاں کے عوام بڑی تعداد میں اس کاروبار سے اپنی آمدنی میں دن دگنی رات چوگنی دولت حاصل کررہے ہیں۔پاکستان میں اس کاروبار پر جان بوجھ کر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں جس کی نہ تو حکومت اور نہ ہی اسٹیٹ بینک کوئی جائز دلیل دے پا رہے ہیں۔اس حوالے سے ہائیکورٹ میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر غیر اعلانیہ پابندی کے خاتمے کے لیے قانونی جنگ کرنے والی معروف سماجی شخصیت وقار ذکاہ کے مطابق وہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے حکومت عدلیہ اور اسٹیٹ بینک حکام کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ صیح وقت ہے کہ اس وقت کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو قانونی تحفظ فراہم کرکے اس کاروبار کی اجازت دی جائے۔وقار زکا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوان اور بڑے کاروباری ادارے اس کاروبار کے زریعے نہ صرف خود فائدہ اٹھا سکیں گے بلکہ ملک کے لیے بھی بھاری ذرمبادلہ کما سکیں۔وقار ذکاء کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت عالمی شہرت یافتہ کرپٹو کرنسی بٹ کوائن تیار کرنے کی بہترین صلاحیت موجود ہے، اس وقت ایک بٹ کوائن پاکستان با آسانی چار ہزار ڈالر میں تیار کرسکتا ہے جس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت 12 ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس کاروبار کو قانونی تحفظ دے دے تو پاکستان کی معیشت میں صرف ایک سال میں دو سے تین ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ دشمنوں کے مفادات کا تحفط کرتے ہوئے جان بوجھ کر پاکستان کو اس بہترین کاروبار سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔وقار زکاہ نے بتایا کہ وہ سندھ ہائیکورٹ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اسٹیٹ بینک سے پوچھ گچھ کی، وہ شکرگزار ہیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے جس نے اسٹیٹ بینک سے پوچھ گچھ کی اور اسٹیٹ بینک یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم نے کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر کوئی پابندی نہیں لگائی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے غیر اعلانیہ طور پر اس کاروبار پر پابندی عائد کررکھی ہے۔اس کاروبار سے منسلک لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، ان کے کمپیوٹر ضبط کرلیے جاتے ہیں لہذا حکومت سے درخواست ہے کہ جب جاپان جیسے ملک میں پچاس ارب ڈالر کا کرپٹو کرنسی کا کاروبار ہوتا ہے تو پاکستان آسانی سے سالانہ چار سے پانچ ارب ڈالر اس کاروبار سے کما کر ملک کی معیشت کو بہتر کرسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…