’پب جی‘ گیم کے شوقین نوجوان نے اپنے دادا کی لاکھوں روپے کی پنشن اڑا دی

  بدھ‬‮ 9 ستمبر‬‮ 2020  |  14:27

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)’پب جی‘ گیم کے شوقین نوجوان نے اپنے دادا کی لاکھوں روپے کی پنشن اڑا دی ، پوتے نے پب جی گیم کھیلنے کے لیے داد کی لاکھوں روپے پینشن اڑادی۔بھارتی میڈیا کے مطابق پب جی گیم کی لت میں مبتلا 15 سالہ نوجوان نے گیم کھیلنے کے لیے رقم کیادائیگی کے لیے دادا کےپینشن اکاؤنٹ کا استعمال کیا اوراکاؤنٹ میں موجود پینشن کی رقم کے 2 لاکھ 34 ہزار روپے گیم کے لیے ادا کردیے۔دہلی پولیس کے سائبر سیل کا کہنا ہے کہ نوجوان کئی ماہ سے پب جی گیم کھیلنے کے لیے رقم کی ادائیگی


کے لیے اپنے دادا کا پینشن اکاؤنٹ استعمال کررہا تھا جس سے اس نے مسلسل ادائیگیاں کیں۔دہلی پولیس کے مطابق واقعے کا پتا اس وقت چلا جب اکاؤنٹ ہولڈر کو موبائل فون پر اکاؤنٹ سے رقم کٹنے کا میسج موصول ہوا جس میں اکاؤنٹ سے 2500 روپے کٹوتی کی اطلاع دی گئی اور اکاؤنٹ میں بقیہ رقم صرف 275 روپے تھی۔میسج دیکھنے پر اکاؤنٹ ہولڈر نے بینک سے رابطہ کیا اور اکاؤنٹ میں موجود 2 لاکھ 34 ہزار روپے ٹرانسفر ہونے سے متعلق بتایا۔پولیس کے مطابق شکایت کنندہ نے پولیس سے رابطہ کیا اور بتایا کہ اس نے اپنے اکاؤنٹ سے کوئی ٹرانزکشن نہیں کی تاہم پولیس کی تحقیقات پر پتا چلا کہ متعلقہ اکاؤنٹ سے 2 ماہ کے اندر 2 لاکھ 34 ہزار 297 روپے کی ٹرانزکشنز کی گئی ہیں جس پر مزید تحقیقات کی گئیں۔پولیس حکام نے بتایا کہ تحقیقات سے پتا چلا کہ ٹرانزکشن 23 سالہ پنکج کمار کے ایک رجسٹرڈ اکاؤنٹ کے ذریعے کی جس پر پولیس نے پنکج کمار کو گرفتار کرلیا، ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس کے ایک دوست نے آئی ڈی اور پاسورڈ بناکر رقم ٹرانسفر کرنے کا کہا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پنکج کمار سے تفتیش میں پتا چلا کہ اس کا دوست متاثرہ شخص کا پوتا ہے جس کو حراست میں لے لیا گیا اور اس نے دوران تفتیش پب جی گیم کی ادائیگی کے لیے دادا کا اکاؤنٹ استعمال کرنے کا بھی اعتراف کیا۔پولیس کے مطابق نوجوان نے بتایا کہ رقم کی منتقلی کے بعد وہ اپنے دادا کے موبائل سے بینک سے موصول ون ٹائم پاسورڈ ڈیلیٹ کردیا کرتا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎