ہفتہ‬‮ ، 27 جون‬‮ 2026 

فیس بک سے مواد ہٹانے کی درخواست دینے والے  ممالک میں پاکستان کون سے نمبر پر ہے؟ ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری

datetime 13  مئی‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی )فیس بک کی جاری کردہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ جولائی تا دسمبر 2019 کے دوران فیس بک کی جانب سے دنیا بھر سے 15 ہزار 826 مواد پر پابندیاں عائد کی گئیں جن میں سے روس، پاکستان اور میکسیکو عالمی سطح پر اس کے آدھے حصے کے ذمہ دار ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق 2019 کی دوسری ششماہی میں فیس بک نے پاکستان کی درخواست پر 2 ہزار 300 سے زائد مواد کو ہٹایا جو روس کے 2ہزار 900 درخواستوں کے بعد دوسرا نمبر ہے۔

فیس بک کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی چیز کو اس کی مواد کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر نہیں ہٹایا گیا تھا بلکہ پاکستان کے سائبر کرائم قانون کے تحت ہٹایا گیا۔فیس بک نے کہا کہ ہم نے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کے ذریعہ پولیو ویکسین، توہین مذہب، عدلیہ مخالف مواد، کالعدم تنظیمیں جو علیحدگی پسند، بدنامی اور ملک کی آزادی کی مذمت کی حامی ہیں، کے خلاف پاکستان میں ان مواد پر پابندیاں عائد کیں۔کمپنی نے کہا کہ جولائی تا دسمبر 2019 کے دوران اس نے پاکستانی حکومت کی جانب سے ہتک عزت کی نجی اطلاعات کے جواب میں پانچ مواد تک رسائی کو بھی محدود کیا۔جنوری 2019 میں فیس بک کو پی ٹی اے کی جانب سے باضابطہ طور پر مواد ہٹانے کی درخواست موصول ہوئی جس میں الزام لگایا گیا کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (پیکا) کی دفعہ 37 کے تحت فیس بک کی دو پوسٹوں میں غیر قانونی فحاشی موجود ہے۔ان میں سے ایک پوسٹ میں منسلک آرٹیکل میں بیوی کے تبادلے اور سوئنگرز کے واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔پلیٹ فارم نے مزید کہا کہ دونوں میں سے کسی بھی پوسٹ نے فیس بک کمیونٹی کے معیارات کی خلاف ورزی نہیں کی تھی تاہم مقامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے فیس بک نے پاکستان کے اندر ہی پوسٹس تک رسائی کو

محدود کردیا اور متاثرہ صارفین کو اس بارے میں مطلع کردیا تھا۔مجموعی طور پر حکومت کی جانب سے مواد کو ہٹانے کی درخواستیں 2019 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں اس مدت کے دوران کم ہوئیں۔پاکستان میں پابندی کا سامنا کرنے والے مواد کو دیکھا جائے تو فیس بک نے 2 ہزار 9 پوسٹس، 140 پیجز اور گروپس معطل کیے۔انسٹاگرام پر پلیٹ فارم نے کل 121، 116 پوسٹس اور پانچ اکاؤنٹس پر

پابندی لگائی۔تاہم حکومت کی جانب سے فیس بک کو قانونی درخواست اس مدت میں بڑھتی رہیں جو اب تک کی سب سے زیادہ ہے،حکام نے کل 2 ہزار 27 درخواستیں ارسال کیں اور پاکستان نے 2 ہزار 630 صارفین/اکاؤنٹس کا ڈیٹا طلب کیا جس میں سے ایک ہزار 878 درخواستوں پر قانونی طور پر کارروائی کی گئی۔فیس بک نے صارف کے ڈیٹا کے حوالے سے درخواستوں میں 52 فیصد کی

تعمیل کی۔ہنگامی صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے حکام قانونی کارروائی کے بغیر درخواستیں پیش کرسکتے ہیں۔صورتحال کی بنیاد پر فیس بک قانون نافذ کرنے والے حکام کو رضاکارانہ طور پر معلومات پیش کرسکتا ہے جہاں انہیں یہ لگے کہ اس معاملے میں کسی کے زخمی ہونے یا موت کا اندیشہ ہے۔جولائی تا دسمبر 2019 تک پاکستان نے 149 ہنگامی درخواستیں بھیجیں جس میں سے پلیٹ فارم نے 44 فیصد درخواستوں کی تعمیل کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…