بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

وائی فائی سے 100 گنا تیز رفتار ’لائی فائی‘ ایجاد کرلی گئی

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہالینڈ کی اینڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ماہرین نے لائی فائی کے ذریعے 40 گیگابٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جو دنیا کے تیز ترین وائی فائی سے بھی 100 گنا تیز رفتار ہے۔وائی فائی میں رابطے کیلیے 2.4 گیگا ہرٹز سے 5 گیگا ہرٹز تک کی ریڈیو لہریں

استعمال کی جاتی ہیں جو تقریباً ویسی ہی ہوتی ہیں جیسی موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ’لائی فائی‘ یعنی روشنی پر منحصر وائی فائی رابطوں میں خاص طرح کی روشنی خارج کرنے والی ایل ای ڈیز استعمال ہوتی ہیں جو اگرچہ ڈیٹا منتقل تو کرسکتی ہیں مگر وائی فائی کے مقابلے میں اس منتقلی کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔جرنل ا?ف لائٹ ویو ٹیکنالوجی اور آئی ٹرپل ای ایکسپلور (IEEE Explore) میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ہالینڈ کی اینڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں جوآن اوہ اور ان کے ساتھیوں نے نئی قسم کی لائی فائی ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے جو روشنی کے بجائے زیریں سرخ شعاعوں (انفراریڈ ویوز) کی مدد سے رابطہ کرتی ہے جبکہ اس کی رفتار بھی حیرت انگیز طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔جوآن اوہ اور ان کے رفقائے تحقیق نے تجربات کے دوران انفراریڈ لائی فائی سگنلوں کو

8.2 فٹ کی دوری تک 42.8 گیگابٹس فی سیکنڈ کی غیرمعمولی رفتار سے نشر کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ یہ مقصد حاصل کرنے کیلیے خاص طرح کے ’لائٹ انٹینا‘ تیار کیے گئے جو انفراریڈ شعاعوں کی شکل میں وائرلیس سگنلوں کو بڑی تیزی سے نشر اور وصول کرنے کے قابل ہیں۔فی الحال یہ

ٹیکنالوجی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے .ماہرین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اسے زیادہ بڑے فاصلوں تک کیلیے کارآمد بنانا ہے کیونکہ فاصلہ زیادہ ہونے پر ڈیٹا ٹرانسفر کی رفتار اچانک بہت کم ہوجاتی ہے۔اپنی تمام خوبیوں کے باوجود لائی فائی ٹیکنالوجی صرف کسی کھلے علاقے میں یا ایک بند کمرے

کے اندر ہی ڈیٹا کی منتقلی کرسکتی ہے روشنی کی لہریں دیواروں کے ارپار نہیں گزرسکتیں۔ یہ کام مختلف کمروں میں جداگانہ لائٹ انٹینا نصب کرکے ضرور کیا جاسکتا ہے جو یقیناً وائی فائی کے مقابلے میں مہنگا ہوگا لیکن کوئی بعید نہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی اتنی پختہ کم خرچ ہوجائے کہ تجارتی پیمانے پر وائی فائی کی جگہ لے سکے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…