واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے نیپچون کے گرد گرداب کا پتا لگایا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق، ورٹیکس ‘ہائی پریشر نظام’ ہے جو چمکتے ہوئے بادلوں کے ہمراہ نمودار ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق 2015 میں ماہرین فلکیات نے نیپچون پر بادلوں کا پتا لگایا تھا۔ مئی 2016ء میں موصول ہونے والی تصاویر میں ورٹیکس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی تھی۔ 1989 میں ‘وائیجر 2’ سپیس کرافٹ نے بھی ایسے ہی مقام کی نشاندہی کی تھی۔ 1994 میں ہَبل نے بھی اِس کی طرف اشارہ نیپچون کے گرد پانی کے چکر کا پتا چلا ہے۔ واضح رہے کہ سورج سے نیپچون تقریباً 4.3 ارب کلومیٹر دور ہے جبکہ اِسے سورج کے مدار کا چکر لگانے میں 165 زمینی سال درکار ہوتے ہیں۔
امریکی سائنسدانوں کا زبردست اقدام، خلا میں موجود اہم چیز دریافت کر لی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل میں ملوث ملزم کوگی بٹ کا مبینہ وائس نوٹ سامنے آگیا



















































