پیر‬‮ ، 02 مارچ‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے ایسی چیز سے بجلی پیدا کر لی کہ دنیا کہ دنگ رہ گئی

datetime 7  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کورنیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ماحول دشمن کاربن ڈائی ا?کسائیڈ کو ختم کرنے کا ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے جس میں گرین ہاؤس اثر کی ایک بڑی وجہ اس گیس سے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ ماہرین نے آکسیجن پر مبنی المونیم کاربن ڈائی آکسائیڈ سیل بنایا ہے جو اس گیس کو استعمال کرتے ہوئے بجلی تیار کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس میں المونیم کو بطور اینوڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن کے ملغوبے کو بطور کیتھوڈ استعمال کیا گیا ہے۔
اس عمل میں بجلی بنتی ہے اور بائی پروڈکٹ کے طور پر آکسیلیٹ پیدا ہوتی ہے۔ تحقیقی گروپ نے مسام دار کاربن سے 13 ایمپئر گھنٹہ فی گرام توانائی حاصل کی ہے جو 1.4 وولٹ کے برابر ہے۔ اس سے قبل بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بجلی بنانے کے کئی تجربات کیے گئے ہیں لیکن اس سے جو بجلی بنتی ہے اس کی 25 فیصد مقدار اسے بنانے میں صرف ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ سیل بہت مؤثر انداز میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بجلی بناتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بجلی بنانے والے سیل کو گاڑیوں اور بسوں میں بھی نصب کیا جاسکتا ہے۔ ایک جانب تو گاڑی کے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بجلی بنائے گی تو دوسری جانب اس کی بجلی خود گاڑی کیکام آئے گی۔ اس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے اور بجلی بنانے کا کام ہاتھوں ہاتھ ہوجائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…