بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین جنوبی بحیرہ چین کے علاقے میں سونامی وارننگ کے لئے مختلف قسم کے آلات نصب کرنے کا منصوبہ بنارہاہے تا کہ سمندری طوفان سے پیشگی آگاہی حاصل کی جا سکے ، سونامی وارننگ کا یہ نظام بین الاقوامی نیٹ ورک سے منسلک ہو گا اور جنوبی بحیرہ چین اور اس کے مشرق میں جزیرہ تائیوان اور خلیج ریکو یو میں نصب کیا جا ئے گا ، اس سے چین کے مشرقی اور جنوبی ساحلوں اور ہمسایہ ممالک کو اطلاعات فراہم ہو سکیں گی ، بعض آلات خلیج منیلا کے مغرب میں نصب کئے جائیں گے جہاں جنوبی بحیرہ چین کے علاقے میں سمندری طوفان کا خدشہ ہوتا ہے ، بحرالکاہل کی پٹی میں چین کو زلزلے اور سونامی کے خطرات پیش آتے رہتے ہیں ، چین سمندری طوفان سے پیشگی وارننگ کے جو آلات نصب کررہا ہے اس سے بحرالکاہل کے علاقے میں سونامی کی پانچ منٹ میں اطلاع موصول ہو جائے گی جبکہ سمندر کے جنوب اور مغربی علاقوں کو ایک منٹ اور جنوبی بحیرہ چین میں سونامی کی اطلاع صرف 30سیکنڈ کے اندر موصول ہو جائے گی ،اس نیٹ ورک کے ذریعے سمندری لہروں سے سونامی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس سے مذکورہ علاقوں کو سمندری طوفان اور دیگر آفات کی قبل از وقت معلومات حاصل ہو جائیں گی ۔
سمندری طوفان کی اطلاع دی جائے گی اب صرف 30سیکنڈ میں، کیسے؟ جانئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
گریٹ گیم
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































