جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

وفاقی بجٹ میں سائنس وٹیکنالوجی کے صرف 1کروڑ مختص

datetime 6  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )حکومتی ترجیحات کی فہرست میں تحقیق و ترقی سب سے نچلی سطح پر رہتی ہے، اسی رویے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی ایک اور درخواست مسترد کردیا ہے ۔واضح رہے کہ یہ فنڈز مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فیول سیل اور نینو ٹیکنالوجیز ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تحقیق کے لیے طلب کیے گئے تھے۔اس کے بجائے حکومت نے 2015-16ءکے بجٹ میں ایک ٹیکنالوجی پارک کے قیام سمیت دو غیرمنظور شدہ منصوبوں کے لیے ایک ایک کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔یہ مختص کردہ رقم وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے 2.4 ارب روپے کے مطالبے کے برخلاف ہے۔جب وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے سیکریٹری کامران علی قریشی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ مختص کی گئی اس رقم سے مطمئن ہیں تو انہوں نے کہا ”بالکل بھی نہیں، یہ اس رقم سے انتہائی کم ہے، جو ہم نے طلب کی تھی۔“کامران علی قریشی نے کہا کہ حکومت نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے پوچھنے کے بجائے، صرف جاری منصوبوں کو مکمل کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا ”ہمیں منصوبہ بندی کمیشن کی دی گئی رہنمائی تک محدود کردیا گیا ہے۔ ہم پہل نہیں کرسکتے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں تحقیق شروع کرنے کے لیے حکومت نے دو مرتبہ ہماری درخواست مسترد کردی ہے، ان ٹیکنالوجیز میں پاکستان کافی پیچھے ہے۔“نینو ٹیکنالوجی اور بایوٹیکنالوجی انقلاب، فیول سیل ٹیکنالوجی، سیٹیلائٹ لانچ کرنے کی صلاحیت اور قابلِ تجدید ٹیکنالوجی کی طرز کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی حکمران جماعت کی انتخابی منشور کا اہم حصہ تھی۔پاکستان کونسل برائے پانی کے وسائل پر تحقیق، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس اور پاکستان



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…