جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

معروف سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کی انسان کی تباہی سے متعلق تحقیق

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) دنیا کے ممتاز سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے حال ہی میں تین اہم چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چیزیں نہ صرف انسانیت کی دشمن ثابت ہوسکتی ہیں بلکہ انسان کو صفحہ ہستی سے بھی مٹاسکتی ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے اور بلیک ہولز پر تحقیق کے ساتھ ساتھ اپنی کتابوں، بیماری اور اس عمر میں بھی یاد داشت کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں جب کہ ساتھ ہی وہ دنیا کو خطرات سے بھی آگاہ رکھتے ہیں اوراپنی تحقیق سے انہوں نے تین چیزوں کو انسانیت کی تباہی کا ذمہ دار قراردیا ہے۔
مصنوعی ذہانت: ہاکنگ کی طرح دنیا کے دوسرے ماہرین بھی فکرمند ہیں کہ کیا انسانوں کی تخلیق مصنوعی ذہانت اگر مضبوط ہوگئی تو وہ انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑدے گی اور شاید انسانوں کی جان کے درپے بھی ہوجائے، دسمبر 2014 ہاکنگ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوسکتی ہے۔
ہاکنگ کی اس بات کی گونج ہمیں ایلون موسک کی باتوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ ارب پتی ایلون اسپیس ایکس اور ٹیسلا موٹرز کے مالک ہیں اور گزشتہ ماہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کو ”انسانیت کے لیے موجود ایک بڑا خطر“ قرار دیا تھا، ہاکنگ اور ایلون اور درجنوں ممتاز سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کے خطرات اور ممکنہ فوائد پر ایک کھلا خط بھی تحریر کیا ہے، 11 جنوری کو آن لائن شائع ہونے والے اس خط میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے امکانات کی بدولت یہ ضروری ہے کہ اس کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کا بھی بھرپور جائزہ لیا جائے۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ماہرین زور دیتے ہیں کہ ابھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، ان میں سے ایک ڈیمس ہاسابس ہیں جو گوگل ڈیپ مائنڈ سے وابستہ ہیں۔ ڈیب مائنڈ ایک پروگرام ہے جس سے کمپیوٹر خود اپنے آپ سے گیم کھیلتا ہے اور سیکھتا ہے تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس موضوع پر بحث شروع کرنا ایک اچھا قدم ہے۔
آرٹیفشل انٹیلی جنس کمپیوٹر سائنس کا ایک دلچسپ موضوع ہے اور اس میں الیکٹرانک سرکٹس اور کمپیوٹروں میں اس صلاحیت کی بات کی جاتی ہے جس کے ذریعے وہ انسانی ذہانت کے کسی معمولی درجے تک پہنچ سکیں اور خود سوچ بھی سکیں، اگر کل کوئی کمپیوٹر خودمختار ہوکر وائرس خود بنالے اور دوسرے کمپیوٹر کو بھی تربیت دے سکے تو ہم انسان اس کا مقابلہ شاید ہی کرسکیں، پھر سوچنے سمجھنے والے کمپیوٹرز کے لیے اخلاقی اور عملی حدود کون بنائے گا، یہ خود ایک بہت بڑا سوال ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…