جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

معروف سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کی انسان کی تباہی سے متعلق تحقیق

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) دنیا کے ممتاز سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے حال ہی میں تین اہم چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چیزیں نہ صرف انسانیت کی دشمن ثابت ہوسکتی ہیں بلکہ انسان کو صفحہ ہستی سے بھی مٹاسکتی ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے اور بلیک ہولز پر تحقیق کے ساتھ ساتھ اپنی کتابوں، بیماری اور اس عمر میں بھی یاد داشت کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں جب کہ ساتھ ہی وہ دنیا کو خطرات سے بھی آگاہ رکھتے ہیں اوراپنی تحقیق سے انہوں نے تین چیزوں کو انسانیت کی تباہی کا ذمہ دار قراردیا ہے۔
مصنوعی ذہانت: ہاکنگ کی طرح دنیا کے دوسرے ماہرین بھی فکرمند ہیں کہ کیا انسانوں کی تخلیق مصنوعی ذہانت اگر مضبوط ہوگئی تو وہ انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑدے گی اور شاید انسانوں کی جان کے درپے بھی ہوجائے، دسمبر 2014 ہاکنگ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوسکتی ہے۔
ہاکنگ کی اس بات کی گونج ہمیں ایلون موسک کی باتوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ ارب پتی ایلون اسپیس ایکس اور ٹیسلا موٹرز کے مالک ہیں اور گزشتہ ماہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کو ”انسانیت کے لیے موجود ایک بڑا خطر“ قرار دیا تھا، ہاکنگ اور ایلون اور درجنوں ممتاز سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کے خطرات اور ممکنہ فوائد پر ایک کھلا خط بھی تحریر کیا ہے، 11 جنوری کو آن لائن شائع ہونے والے اس خط میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے امکانات کی بدولت یہ ضروری ہے کہ اس کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کا بھی بھرپور جائزہ لیا جائے۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ماہرین زور دیتے ہیں کہ ابھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، ان میں سے ایک ڈیمس ہاسابس ہیں جو گوگل ڈیپ مائنڈ سے وابستہ ہیں۔ ڈیب مائنڈ ایک پروگرام ہے جس سے کمپیوٹر خود اپنے آپ سے گیم کھیلتا ہے اور سیکھتا ہے تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس موضوع پر بحث شروع کرنا ایک اچھا قدم ہے۔
آرٹیفشل انٹیلی جنس کمپیوٹر سائنس کا ایک دلچسپ موضوع ہے اور اس میں الیکٹرانک سرکٹس اور کمپیوٹروں میں اس صلاحیت کی بات کی جاتی ہے جس کے ذریعے وہ انسانی ذہانت کے کسی معمولی درجے تک پہنچ سکیں اور خود سوچ بھی سکیں، اگر کل کوئی کمپیوٹر خودمختار ہوکر وائرس خود بنالے اور دوسرے کمپیوٹر کو بھی تربیت دے سکے تو ہم انسان اس کا مقابلہ شاید ہی کرسکیں، پھر سوچنے سمجھنے والے کمپیوٹرز کے لیے اخلاقی اور عملی حدود کون بنائے گا، یہ خود ایک بہت بڑا سوال ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…