جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

فیس بک : صارفین کا معاملہ یورپی عدالت میں

datetime 25  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ان میں ٹوئٹر، گوگل، مائیکروسافٹ اور یاہو جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔ سنہ 2000 سے سیف ہاربر معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں اپنے یورپی صارفین کے بارے میں معلومات جمع کر سکتی ہیں بشرطیکہ ان معلومات کو سنبھال کر اور حفاظت سے رکھنے کے اصولوں پر عمل ہوتا رہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کے بارے میں یورپ سے جمع ہونے والی معلومات، امریکہ میں مختلف ڈیٹا مراکز میں غیر قانونی طور پر بھی رکھی جا سکتی ہیں۔صارفین کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے جن اصولوں پر عمل ضروری ہے ان میں صارفین کو پہلے سے نوٹس دینا ہے کہ ان کے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان معلومات تک رسائی اور اس رسائی کی کسے اجازت ہوگی اس بارے میں بھی مناسب شفافیت کے اصولوں پر عمل لازمی ہے۔یورپی عدالتِ انصاف اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے بعد سیف ہاربر معاہدہ مو¿ثر رہا ہے یا نہیں۔ سنوڈن نے الزام عائد کیا تھا کہ 2007 میں امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی ’این ایس اے‘ کے جاسوسی کے نظام کے آغاز پر فیس بک اور دیگر کمپنیوں کا گٹھ جوڑ ہوا تھا۔وکیل شیریمز نےگذشتہ سال فیس بک کے خلاف اس کے یورپیئن ہیڈکوارٹر ڈبلن میں ایک شکایت دائر کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یورپ سے صارفین کے بارے میں معلومات کی امریکہ کو فراہمی پر امریکی خفیہ اداروں اور فیس بک کے درمیان مبینہ تعاون کی تحقیقات کی جائے۔ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافاتیورپی عدالتِ انصاف اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے بعد سیف ہاربر معاہدہ مو¿ثر رہا ہے یا نہیں۔ سنوڈن نے الزام عائد کیا تھا کہ 2007 میں امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی ’این ایس اے‘ کے جاسوسی کے نظام کے آغاز پر فیس بک اور دیگر کمپنیوں کا گٹھ جوڑ ہوا تھا۔شکایت کنندہ کا یہ بھی الزام تھا کہ فیس بک نے سیف ہاربر معاہدے کے اصولوں کے برخلاف عمل کیا اور یہ کہ یورپی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے مقامی ریگولیٹروں کو آگے آنا چاہیے۔آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے مطلوبہ تحقیقات سے انکار کیا تھا جسے مسٹر شریمز نے آئرلینڈ کی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔اس عدالت نے یہ معاملہ یورپی عدالتِ انصاف کو بھیج دیا کہ وہ فیصلہ کرنے کہ آیا سیف ہاربر معاہدہ مو¿ثر رہا ہے یا نہیں۔یورپی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے فیس بک اور دیگر امریکی کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقوں پر ڈارمائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت نے سیف ہاربر معاہدے کو غیر مو¿ثر قرار دے دیا تو معلومات کو یورپ سے امریکہ منتقل کرنا اور انھیں ڈیٹا مراکز میں سٹور کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ٹوئٹر جیسی کچھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ معلومات کو سنبھالنے کے لیے یورپ میں ڈیٹا مراکز قائم کریں گےگو انھیں یہی کام غیر ضروری طور پر دو مرتبہ کرنا پڑے گا کیونکہ پہلے سے ہی امریکہ میں ان کے پاس اسی طرح کے مراکز ہیں۔وال سٹریٹ جنرل کے مطابق معلومات کے ایک برطانوی ریگولیٹر نے عدالت میں کہا ہے کہ سیف ہاربر معاہدے کو ختم کرنے کے ’سنگین مضمرات ہوں گے اور اس تجارت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا جس کی وجہ سے یورپ اور اس کے شہریوں کو اہم فوائد حاصل ہوتے ہیں۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…