اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ان میں ٹوئٹر، گوگل، مائیکروسافٹ اور یاہو جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔ سنہ 2000 سے سیف ہاربر معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں اپنے یورپی صارفین کے بارے میں معلومات جمع کر سکتی ہیں بشرطیکہ ان معلومات کو سنبھال کر اور حفاظت سے رکھنے کے اصولوں پر عمل ہوتا رہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کے بارے میں یورپ سے جمع ہونے والی معلومات، امریکہ میں مختلف ڈیٹا مراکز میں غیر قانونی طور پر بھی رکھی جا سکتی ہیں۔صارفین کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے جن اصولوں پر عمل ضروری ہے ان میں صارفین کو پہلے سے نوٹس دینا ہے کہ ان کے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان معلومات تک رسائی اور اس رسائی کی کسے اجازت ہوگی اس بارے میں بھی مناسب شفافیت کے اصولوں پر عمل لازمی ہے۔یورپی عدالتِ انصاف اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے بعد سیف ہاربر معاہدہ مو¿ثر رہا ہے یا نہیں۔ سنوڈن نے الزام عائد کیا تھا کہ 2007 میں امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی ’این ایس اے‘ کے جاسوسی کے نظام کے آغاز پر فیس بک اور دیگر کمپنیوں کا گٹھ جوڑ ہوا تھا۔وکیل شیریمز نےگذشتہ سال فیس بک کے خلاف اس کے یورپیئن ہیڈکوارٹر ڈبلن میں ایک شکایت دائر کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یورپ سے صارفین کے بارے میں معلومات کی امریکہ کو فراہمی پر امریکی خفیہ اداروں اور فیس بک کے درمیان مبینہ تعاون کی تحقیقات کی جائے۔ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافاتیورپی عدالتِ انصاف اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے بعد سیف ہاربر معاہدہ مو¿ثر رہا ہے یا نہیں۔ سنوڈن نے الزام عائد کیا تھا کہ 2007 میں امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی ’این ایس اے‘ کے جاسوسی کے نظام کے آغاز پر فیس بک اور دیگر کمپنیوں کا گٹھ جوڑ ہوا تھا۔شکایت کنندہ کا یہ بھی الزام تھا کہ فیس بک نے سیف ہاربر معاہدے کے اصولوں کے برخلاف عمل کیا اور یہ کہ یورپی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے مقامی ریگولیٹروں کو آگے آنا چاہیے۔آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے مطلوبہ تحقیقات سے انکار کیا تھا جسے مسٹر شریمز نے آئرلینڈ کی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔اس عدالت نے یہ معاملہ یورپی عدالتِ انصاف کو بھیج دیا کہ وہ فیصلہ کرنے کہ آیا سیف ہاربر معاہدہ مو¿ثر رہا ہے یا نہیں۔یورپی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے فیس بک اور دیگر امریکی کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقوں پر ڈارمائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت نے سیف ہاربر معاہدے کو غیر مو¿ثر قرار دے دیا تو معلومات کو یورپ سے امریکہ منتقل کرنا اور انھیں ڈیٹا مراکز میں سٹور کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ٹوئٹر جیسی کچھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ معلومات کو سنبھالنے کے لیے یورپ میں ڈیٹا مراکز قائم کریں گےگو انھیں یہی کام غیر ضروری طور پر دو مرتبہ کرنا پڑے گا کیونکہ پہلے سے ہی امریکہ میں ان کے پاس اسی طرح کے مراکز ہیں۔وال سٹریٹ جنرل کے مطابق معلومات کے ایک برطانوی ریگولیٹر نے عدالت میں کہا ہے کہ سیف ہاربر معاہدے کو ختم کرنے کے ’سنگین مضمرات ہوں گے اور اس تجارت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا جس کی وجہ سے یورپ اور اس کے شہریوں کو اہم فوائد حاصل ہوتے ہیں۔‘
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی



















































