کچھ لوگوں کا موڈ وقتی طور پر خراب ہوتا ہے اور کچھ کا تو ہر وقت ہی خراب رہتا ہے۔ لیکن اس موڈ کی خرابی کو ٹھیک کیسے کیا جائے؟
کراچی (نیوز ڈیسک )کبھی دفتر میں لوگ ایک دوسرے کو توجہ دلاتے ہیں کہ کام ٹھیک سے کرو کیونکہ صاحب کا موڈ خراب ہے، تو کبھی گھر میں ماں بچوں سے اور بچے ایک دوسرے سے کہتے پھرتے ہیں کہ ذرا بچ کے، ابو کا موڈ خراب ہے۔کچھ لوگوں کا موڈ وقتی طور پر خراب ہوتا ہے اور کچھ کا تو ہر وقت ہی خراب رہتا ہے۔ لیکن اس موڈ کی خرابی کو ٹھیک کیسے کیا جائے؟کراچی کے ‘ساوتھ سٹی اسپتال’ میں ماہر نفسیات ڈاکٹر فیصل ممسا نے ‘وائس آف امریکہ’ کے ساتھ گفتگو میں موڈ بہتر کرنے کے گر بتاتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو پاکستانی نیوز چینلز دیکھنے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ ان پر سوائے منفی خبروں کے اور کچھ نہیں دکھایا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات جاننے کی غرض سے اخبار پڑھنا ناگزیر ہو تو صرف سرخیاں پڑھ لی جائیں، خصوصاً منفی خبروں کی تفصیل پڑھنے سے گریز کیا جائے۔ڈاکٹر فیصل ممسا نے مزید کہا کہ رونے دھونے والے ڈرامے نہ دیکھے جائیں بلکہ ان کی جگہ کوئی ایسی چیز دیکھی جائے جو آپ کو خوش کرے۔ ان کے بقول اس سے بھی بہتر سرگرمی کتابیں پڑھنا ہے چاہے وہ سائنس کے بارے میں ہوں یا ادب سے متعلق ہوں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانیوں میں ورزش کا رواج بہت کم ہے۔ ورزش کرنے سے نہ صرف جسم صحت مند رہتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ انسان نفسیاتی طور پر بھی ہشاش بشاش رہتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ آج کل لوگ اپنا بہت سارا وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فیس بک اور ایسی ہی دوسری سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر صرف منفی چیزیں پوسٹ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بچا جائے کیونکہ منفی سوچ ایک سے دوسرے کو بیماری کی طرح لگتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ منفی لوگوں سے ملنا جلنا بھی کم ہی رکھنا چاہئے اور شائستہ انداز میں انھیں بتا دینا چاہئے کہ وہ کتنی زیادہ منفی باتیں کرتے ہیں تاکہ وہ آپ کو اپنی منفی باتوں سے مایوس کرنا چھوڑ دیں۔ اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو لوگ مستقل آپ پہ تنقید کرتے رہتے ہیں وہ آپ کے دوست نہیں۔امریکی جریدے ‘سائکولوجی ٹوڈے’ کے ایک حالیہ مضمون ‘ٹین کوئک ٹپس ٹو امپروو یور موڈ’ میں بھی اپنے موڈ کو اچھا رکھنے کے طریقے بتاتے ہوئے منفی سوچ رکھنے والے لوگوں سے بچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ خوش رہنے والے لوگوں سے ملنا جلنا چاہئے تاکہ ان کی خوش رہنے کی عادت خود کو بھی متاثر کرے۔جریدے کے مطابق ہنسنا مسکرانا، ماضی کے پچھتاوے اور مستقبل کی پریشانیوں کے بجائے حال کی کسی مثبت چیز کے بارے میں سوچنا، دوسروں کی تعریف کرنا اور ان کی زندگی میں دلچسپی لینا، ڈارک چاکلیٹ کھانا اور سبز چائے پینا بھی موڈ کو اچھا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس مضون کو پڑھئے اور موڈ ٹھیک کیجئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
اواتار مائونٹین
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
بجلی کے بل نے شہری کا راز فاش کر دیا، فلیٹ میں 300 اژدہے پالنے پر گرفتار
-
دورانِ شاپنگ ماں بچوں کو گاڑی میں بھول گئی، شدید گرمی سے 2 کمسن بہن بھائی ہلاک
-
عوام کو جلد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی خوشخبری ملنے والی ہے، بڑا اعلان
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مزید گر گئی، سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی
-
سرگودھا میں شہریوں نے کمسن بچی کے قاتل کو قبرستانوں میں دفنانے کی اجازت نہ دی
-
سلمان خان کی24 سال قبل دیا مرزا سے کی گئی انوکھی پیشگوئی
-
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تاریخ میں پہلی بار رن وے پر مسافروں کا دھرنا
-
بہنوں کی کمال بہادری نے گوجرانوالہ میں 16 سالہ لڑکی کے اغواء کی سنسنی خیز کوشش ناکام بنادی



















































