جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ا ب انٹرنیٹ بالکل’مفت‘وہ بھی سب کے لیے

datetime 7  مارچ‬‮  2015 |

بارسلونا: کیا انٹرنیٹ دھوپ ، ہوا اور بارش کی طرح مفت دستیاب ہوسکتا ہے؟ گوگل اور فیس بُک جیسے ادارے اب آسمان سے انٹرنیٹ مفت برسانے پر کام کررہے ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ انسان کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا بنیادی حق ہے ،لیکن یہ کیسے ممکن ہوگا اس کا خاکہ گزشتہ روز بارسلونا کی موبائل ورلڈ کانگریس میں پیش کیا گیا۔ گوگل نے اپنے انٹرنیٹ غباروں اور سولر ڈرونز کی مزید تفصیلات پیش کیں جو انٹرنیٹ سگنلز زمین پر نشر کریں گے۔ اس سے قبل فیس بک کے سربراہ مارک ذکربرگ بہت سے انٹرنیٹ ڈرونز کی تفصیل پیش کرچکے ہیں۔

اسکائی وائی فائی

گوگل نے اس کانفرنس میں اپنے مشہور پروجیکٹ لُون کے بارے میں بتایا جس میں غبارے زمین سے کم بلندی پر رہتے ہوئے سستا انٹرنیٹ زمین تک فراہم کریں گے اور اسے آسمانی وائی فائی کہا جاسکتا ہے۔ کانفرنس میں گوگل نے بتایا کہ اب اس کے انٹرنیٹ غبارے چھ ماہ تک فضا میں رہ کر مسلسل انٹرنیٹ زمین پر فراہم کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ حد صرف 100  دن تک تھی۔

گوگل انٹرنیٹ ڈرون

غباروں کے علاوہ گوگل نے ’ٹائٹن‘ نامی انٹرنیٹ ڈرون کا ایک منصوبہ بھی بنایا ہے۔ یہ ڈرون بھی سورج کی توانائی سے پرواز کریں گے اور نہ صرف عام حالات بلکہ قدرتی آفات میں بھی انٹرنیٹ فراہم کرسکیں گے تاکہ انہیں امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اپریل 2014 میں گوگل نے ٹائٹن ایروسپیس کمپنی خریدی تھی جس نے ایسے سولر ڈرونز بنائے ہیں جو پچاس سال تک فضا میں رہ سکتے ہیں۔

لیزر اور سیٹلائیٹ انٹرنیٹ

فیس بک کے سربراہ مارک ذکربرگ کے مطابق ان کی کمپنی نے ’کنیکٹویٹی لیب‘ کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے جو مفت انٹرنیٹ فراہمی پر تجربات شروع کررہا ہے۔ اس میں ’ڈرون ، سیٹلائیٹ اور لیزر‘ سبھی کچھ شامل ہے۔ گزشتہ برس اسی لیب کے ڈائریکٹر ییل میگائر نے اعلان کیا تھا کہ 2015 میں وہ بوئنگ 747 سائز کے ایک وائی فائی ڈرون کا تجربہ کریں گے جو 60 سے 90 ہزار فٹ بلندی پر رہتے ہوئے انٹرنیٹ فراہم کرے گا۔ ذکربرگ نے کہا ہے کہ ان کے انٹرنیٹ منصوبے میں غبارے شامل نہیں۔ فیس بک اور گوگل دونوں ہی افریقہ میں ذیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جہاں لوگوں کی اکثریت انٹرنیٹ سے محروم ہے اور وہاں انفراسٹرکچر موجود نہیں لیکن ان دونوں اداروں کے مالیاتی مفاد بھی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…