منگل‬‮ ، 21 جولائی‬‮ 2026 

وائی فائی اسکائی : بارش کی طرح مفت استعمال کریں

datetime 6  مارچ‬‮  2015 |

بارسلونا(نیوز ڈیسک ) انٹرنیٹ دھوپ ، ہوا اور بارش کی طرح مفت دستیاب ہوسکتا ہے؟ گوگل اور فیس بک جیسے ادارے اب آسمان سے انٹرنیٹ مفت برسانے پر کام کررہے ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں کا موقف ہے کہ انٹرنیٹ انسان کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا بنیادی حق ہے ،لیکن یہ کیسے ممکن ہوگا اس کا خاکہ گزشتہ روز بارسلونا کی موبائل ورلڈ کانگریس میں پیش کیا گیا۔ گوگل نے اپنے انٹرنیٹ غباروں اور سولر ڈرونز کی مزید تفصیلات پیش کیں جو انٹرنیٹ سگنلز زمین پر نشر کریں گے۔ اس سے قبل فیس بک کے سربراہ مارک ذکربرگ بہت سے انٹرنیٹ ڈرونز کی تفصیل پیش کرچکے ہیں۔
اسکائی وائی فائی
گوگل نے اس کانفرنس میں اپنے مشہور پروجیکٹ لون کے بارے میں بتایا جس میں غبارے زمین سے کم بلندی پر رہتے ہوئے سستا انٹرنیٹ زمین تک فراہم کریں گے اور اسے آسمانی وائی فائی کہا جاسکتا ہے۔ کانفرنس میں گوگل نے بتایا کہ اب اس کے انٹرنیٹ غبارے چھ ماہ تک فضا میں رہ کر مسلسل انٹرنیٹ زمین پر فراہم کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ حد صرف 100 دن تک تھی۔
گوگل انٹرنیٹ ڈرون
غباروں کے علاوہ گوگل نے ’ٹائٹن‘ نامی انٹرنیٹ ڈرون کا ایک منصوبہ بھی بنایا ہے۔ یہ ڈرون بھی سورج کی توانائی سے پرواز کریں گے اور نہ صرف عام حالات بلکہ قدرتی آفات میں بھی انٹرنیٹ فراہم کرسکیں گے تاکہ انہیں امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اپریل 2014 میں گوگل نے ٹائٹن ایروسپیس کمپنی خریدی تھی جس نے ایسے سولر ڈرونز بنائے ہیں جو پچاس سال تک فضا میں رہ سکتے ہیں۔
لیزر اور سیٹلائیٹ انٹرنیٹ
فیس بک کے سربراہ مارک ذکربرگ کے مطابق ان کی کمپنی نے ’کنیکٹویٹی لیب‘ کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے جو مفت انٹرنیٹ فراہمی پر تجربات شروع کررہا ہے۔ اس میں ڈرون ، سیٹلائیٹ اور لیزر سبھی کچھ شامل ہے۔ گزشتہ برس اسی لیب کے ڈائریکٹر ییل میگائر نے اعلان کیا تھا کہ 2015 میں وہ بوئنگ 747 سائز کے ایک وائی فائی ڈرون کا تجربہ کریں گے جو 60 سے 90 ہزار فٹ بلندی پر رہتے ہوئے انٹرنیٹ فراہم کرے گا۔ ذکربرگ نے کہا ہے کہ ان کے انٹرنیٹ منصوبے میں غبارے شامل نہیں۔ فیس بک اور گوگل دونوں ہی افریقہ میں ذیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جہاں لوگوں کی اکثریت انٹرنیٹ سے محروم ہے اور وہاں انفراسٹرکچر موجود نہیں لیکن ان دونوں اداروں کے مالیاتی مفاد بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…