انٹرنیٹ پر 16 فیصد ٹیکس لگانے کا فیصلہ ،سمری تیار

  بدھ‬‮ 11 فروری‬‮ 2015  |  13:35

لاہور:  حکومت پنجاب نے انٹرنیٹ پر ٹیکس کا بوجھ طلبا پر بھی ڈال دیااور انفرادی طور پر طلبہ اور عام صارفین سے سولہ فیصد عائد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ریونیو اتھارٹی کو انٹرنیٹ ٹیکس کی چھوٹ پر ایک سال میں سات ارب کا نقصان ہوا جس کے باعث حکومت پنجاب کا انٹرنیٹ پر ٹیکس چھوٹ واپس لینے کا فیصلہ۔ محکمہ فنانس میں رکن صوبائی اسمبلی عائشہ غوث پاشا کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری فنانس محمد یوسف خان، چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی محمد افتخار قطب، ایڈیشنل کمشنر لاہور محمد سرور، ایڈیشنل سیکرٹری پی این ڈی


منصور قادر سمیت پی آئی ٹی بی اور دیگر متعلقہ افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی افتخار قطب نے افسران کو آگاہ کیا کہ موجودہ حالات میں ڈائل اپ، براڈ بینڈ، ای میل سرور، نیٹ ورک سرسز اور دیگر ویلیو ایٹڈ ڈیٹا پر پنجاب حکومت کی جانب سے ٹیکس چھوٹ عائد ہے جس کی وجہ انہیں دو ہزار چودہ پندرہ میں سات ارب کا نقصان ہوا۔ ذرائع کے مطابق اب عام صارفین کے ساتھ ساتھ طلبا سے بھی ٹیکس وصول کی جائے گی جبکہ تعلیمی اداروں پر استعثنٰی برقرار رہے گا۔ دوسری جانب سرکاری دستاویزات کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی عائشہ غوث پاشا نے پنجاب انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی بورڈ سے ٹیکس چھوٹ پر رائے لی تو انہوں نے ٹیکس چھوٹ کو برقرار رکھنے کی اپیل کی کہ عام صارفین، طلبہ اور چھوٹے تاجروں کو ٹیکس کے باعث مشکلات کا سامنا نپ کرنا پڑے گا۔ جس پر چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی کا کہنا تھا کہ کمشر صارفین کو ٹیکس میں چھوٹ پر سہولت دی جائے گی لیکن ٹیکس لازمی وصول کیا جائے گا۔ جس کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ ٹیکس پر عائد چھوٹ کو ختم کیا جائے۔


loading...