اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ترکیہ کے پہاڑی علاقے میں موجود ایک کشتی نما ساخت نے ایک بار پھر ماہرین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
بین الاقوامی محققین اس مقام پر تحقیق کررہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا یہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے ممکنہ آثار موجود ہیں یا نہیں۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے کوہ ارارات کے قریب واقع دوروپینار کے مقام پر ایک ایسی ساخت موجود ہے جو اوپر سے کشتی سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین اس مقام کی مٹی، زیرِ زمین ساخت اور دیگر شواہد کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لے رہے ہیں۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے بعض مٹی کے نمونوں میں کاربن اور دیگر نامیاتی مواد کی موجودگی نوٹ کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی پہاڑی علاقے میں چند گز کے فاصلے سے حاصل کیے گئے بعض نمونوں میں یہ عناصر موجود نہیں تھے۔
محققین کے مطابق ان نتائج سے اس امکان کی نشاندہی ہوتی ہے کہ زیرِ زمین کبھی نامیاتی مواد موجود رہا ہو، جو ممکنہ طور پر قدیم لکڑی کے باقیات سے متعلق ہوسکتا ہے۔ تاہم اب تک وہاں لکڑی کا کوئی براہِ راست ثبوت دریافت نہیں ہوا۔
ماہرین نے جدید ریڈار ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی علاقے کا جائزہ لیا ہے۔ ابتدائی اسکینز میں زیرِ زمین ایسی ساختیں سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جو عام قدرتی پہاڑی تشکیل سے مختلف معلوم ہوتی ہیں۔
اس مقام کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی سے جوڑنے کی قیاس آرائیاں کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ 1959 میں علاقے کی فضائی تصاویر سامنے آنے کے بعد اس کشتی نما ساخت کے بارے میں دلچسپی میں اضافہ ہوا تھا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1948 میں شدید بارشوں اور زلزلوں کے باعث علاقے کی مٹی سرک گئی تھی، جس کے بعد یہ پراسرار ساخت زیادہ نمایاں ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد ازاں ایک مقامی چرواہے نے بھی اسے محسوس کیا۔
محققین نے تحقیق کے دوران پہاڑی علاقے کے مختلف مقامات سے تقریباً ایک ہزار مٹی کے نمونے حاصل کیے اور ان میں کاربن سمیت مختلف عناصر کی موجودگی کا تجزیہ کیا۔
تحقیقی ٹیم نے زیرِ زمین ساخت کا جائزہ لینے کے لیے ریڈار ٹیکنالوجی بھی استعمال کی، جو سطح زمین سے تقریباً 20 فٹ نیچے موجود چیزوں کا ڈیٹا فراہم کرسکتی ہے۔ محققین کے مطابق بعض نمونوں میں نامیاتی مواد اور پوٹاشیم کی موجودگی سامنے آئی، جسے وہ قدیم لکڑی کے ممکنہ باقیات سے جوڑ رہے ہیں۔
تاہم ماہرین خود بھی اس نتیجے کو حتمی قرار نہیں دے رہے۔ ان کے مطابق ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ دریافت ہونے والے شواہد واقعی کسی قدیم لکڑی کی کشتی سے متعلق ہیں اور دیگر امکانات کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔
تحقیقی ٹیم نے اگست 2026 میں علاقے میں کیے گئے ریڈار سروے کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کی تھیں۔ فی الحال سروے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا مزید تجزیہ جاری ہے، جبکہ بعض مخصوص مقامات پر ڈرلنگ کرکے زیرِ زمین موجود ساخت کی حقیقت جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان کا موجودہ خیال یہی ہے کہ ممکنہ طور پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی مقام پر موجود ہوسکتی ہے، تاہم تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ان کے مطابق موجودہ شواہد اس دعوے کو قطعی طور پر ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں اور حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق ضروری ہے۔



















































