جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس دو پاکستانی بھائیوں نے تیار کیا تھا

datetime 11  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)دنیا کے پہلے پی سی بوٹ سیکٹر وائرس ”برین” کی تیاری کا تعلق پاکستان سے ہے، جسے 1986 میں لاہور کے دو پاکستانی بھائیوں باسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے تیار کیا تھا۔

تاریخی معلومات کے مطابق ”برین” وائرس جنوری 1986 میں تیار کیا گیا اور اسے کمپیوٹرز کو نقصان پہنچانے کے بجائے سافٹ ویئر کی غیر قانونی نقل اور استعمال کی روک تھام کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ دونوں بھائیوں نے اس وقت اپنا طبی سافٹ ویئر تیار کیا تھا جس کی غیر مجاز نقول بنائے جانے پر انہوں نے ایسا پروگرام تیار کیا جو پائریٹڈ کاپیوں کی نشاندہی کرسکے۔یہ وائرس اس دور میں استعمال ہونے والی 5.25 انچ فلاپی ڈسکس کے ذریعے ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر تک منتقل ہوتا تھا۔ ”برین” میں ایک پوشیدہ کاپی رائٹ پیغام بھی موجود تھا، جس میں دونوں بھائیوں کی دکان کا پتہ اور ٹیلی فون نمبرز درج تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وائرس موجودہ دور کے بیشتر نقصان دہ وائرسز کے برعکس کمپیوٹر کے ڈیٹا کو تباہ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بناتا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد غیر قانونی طور پر نقل کیے گئے سافٹ ویئر کی نشاندہی اور صارف کو اس کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔”برین” کے سامنے آنے کے بعد کمپیوٹر وائرس کی اصطلاح عالمی سطح پر زیادہ نمایاں ہوئی اور بعد کے برسوں میں مختلف اقسام کے نقصان دہ وائرس، کیڑے اور دیگر سائبر خطرات سامنے آتے گئے۔

پاکستانی بھائیوں کی جانب سے تیار کیا گیا یہ پروگرام آج کمپیوٹر سیکیورٹی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس نے اس دور میں کمپیوٹرز کے درمیان پھیلنے والے سافٹ ویئر پروگراموں کے نئے رجحان کو دنیا کے سامنے متعارف کرایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…