جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سیلابی صورتحال پر پنجاب میں اسکولوں کی چھٹیاں بڑھانے کی تجویز سامنے آگئی

datetime 30  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب میں جاری مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے مزید کچھ عرصہ بند رکھنے کی تجویز دے دی ہے۔

اس سلسلے میں سفارشات محکمہ اسکول ایجوکیشن کو بھجوا دی گئی ہیں، جبکہ حتمی فیصلہ پنجاب حکومت کرے گی۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اے نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ کئی متاثرہ علاقوں میں اب بھی سیلابی پانی موجود ہے اور معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔ ایسی صورت حال میں اسکول کھولنا طلبہ اور تدریسی عملے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے سفارش کی گئی ہے کہ ان علاقوں میں 20 اگست کو بھی تعلیمی ادارے نہ کھولے جائیں اور حالات معمول پر آنے تک بند رکھے جائیں۔رپورٹ میں متعلقہ اضلاع کے اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کا فوری تخمینہ لگانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ بحالی اور مرمت کے لیے بروقت منصوبہ بندی اور فنڈز کا انتظام کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے نے محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو متاثرہ تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری عمارتوں کا تفصیلی سروے کرنے اور جامع رپورٹ مرتب کرنے کی تجویز بھی دی ہے، تاکہ بحالی کا کام جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔حکام کے مطابق موجودہ حالات میں طلبہ اور اساتذہ کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اسی لیے تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کا فیصلہ زمینی صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔اب والدین، طلبہ اور نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کی انتظامیہ پنجاب حکومت کے حتمی فیصلے کی منتظر ہے، جو پی ڈی ایم اے کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…