جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی دھاندلی کی باریک واردات کی ماسٹر ہے، مریم نواز

datetime 29  جولائی  2026 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے انتخابی تنازع پر پاکستان پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جس جماعت پر ماضی میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات لگتے رہے، آج وہی خود دھاندلی کے دعوے کر رہی ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال بھی کیا کہ “قیامت آخر کب آئے گی؟”اس سے قبل ایک اور بیان میں مریم نواز نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کے پاس عوامی خدمت، مؤثر حکمرانی اور قابلِ ذکر کارکردگی موجود ہوتی تو اسے دوسروں پر تنقید کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں طویل عرصہ حکومت کرنے کے باوجود عوام کے سامنے نمایاں کامیابیاں پیش نہیں کی جا سکیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے ووٹرز نے ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی پروگراموں، کسان دوست اقدامات، بہتر سڑکوں اور امن و امان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ دیا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھانے کے بجائے سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مشورہ دیا کہ وہ انتخابی شکست تسلیم کرتے ہوئے سندھ کے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے-12 چڑھوئی میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ان کے مطابق بعض پولنگ اسٹیشنوں پر پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالنے، مسلح افراد کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے اور مبینہ جعلی ووٹنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد مقدم ہے یا کسی ایک سیاسی جماعت کا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرپور سمیت مختلف علاقوں کے عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس لیے پارٹی عوام کے ووٹ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں میں سامنے آنے والی صورتحال جمہوری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے فیصلے کے احترام اور اس کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ادھر پاکستان تحریک انصاف نے بھی آزاد کشمیر کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی عمل شفاف نہیں تھا اور عوامی مینڈیٹ کو متاثر کیا گیا۔ پارٹی کی کور اور پولیٹیکل کمیٹی کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ عوام نے روایتی سیاسی جماعتوں کو مسترد کیا، تاہم انتخابی نتائج میں اس رائے کی درست عکاسی نہیں ہوئی۔ PTI نے مطالبہ کیا کہ انتخابات سے متعلق تمام اعتراضات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…