جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

چار سال کے دوران کتنے پاکستانی یورپ جانے کی کوشش میں کشتی حادثات میں جاں بحق ہوئے؟

datetime 12  جولائی  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)چار سال کے دوران ڈنکی لگا کر یورپ جانے کی کوشش میں کشتی حادثات میں 335 پاکستانی جان سے گئے۔

جون 2023 سے اب تک 7 بڑے کشتی حادثات اور ان میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات سما نے حاصل کرلی ہیں۔ ایف آئی اے دستاویز کے مطابق جون2023سے اب تک 7مہلک کشتی حادثات رپورٹ ہوئے۔دستاویز کے مطابق جون 2023میں یونان جانے والی کشتی کو حادثہ پیش آیا۔ کشتی پر سوار مسافروں میں 226 پاکستانی سوار تھے۔ ان میں سے 207 جاں بحق ہوگئے اور صرف 19زندہ بچے۔دسمبر2024میں یونان جانے والی ایک اور کشتی حادثے کا شکار ہوئی، مسافروں میں 69 پاکستانی تھے جن میں 25 کی جان گئی، 44 زندہ بچالیے گئے۔ جنوری 2025میں مراکش کے قریب کشتی حادثہ ہوا۔ مسافروں میں 70پاکستانی سوارتھے۔ 44 جان سے گئے۔ فروری 2025 کے لیبیا کشتی حادثے میں 23پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ اپریل 2025 ، اکتوبر 2025 اور اپریل 2026 میں لیبیا سے ڈنکی لگانے والوں کی کشتیوں کے 3 بڑے حادثات ہوئے۔ جن میں 30 سے زائد پاکستانی جان گنوا بیٹھے۔بڑے سانحات کے بعد حکومت نے ہیومن اسمگلنگ روکنے کیلئے کمر کس لی۔

سخت اسکروٹنی اور آف لوڈنگ کی کارروائیاں ہونے لگیں۔ جس پر ڈنکی لگانے والی پاکستانیوں کی تعدادمیں رواں سال کے ابتدائی دو ماہ میں 64 فیصد تک کی ریکارڈ کمی آگئی۔ جنوری اور فروری 2026 میں 440 پاکستانیوں نے ڈنکی لگائی جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تعداد 1224 تھی، یورپین بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی نے تصدیق کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…