جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایوان صدر کیلئے 2 ارب، وزیراعظم پبلک آفس کیلئے 92 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز

datetime 13  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وزیراعظم آفس کے اخراجات کا بجٹ 92 کروڑ جبکہ ایوان صدر کیلئے 2 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-2027 کے بجٹ میں وزیر اعظم پبلک آفس کا بجٹ 92 کروڑ 12 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ صدر مملکت کے پبلک آفس کے اخراجات کیلئے 96 کروڑ 37 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صدر مملکت کے ذاتی دفتر کے لیے 1 ارب 83 کروڑ روپے، ایوان صدر کے لیے 2 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ایوان صدر پبلک آفس کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 کروڑ روپے کی اضافی رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔علاوہ ازیں صدر مملکت کے ذاتی دفتر کے بجٹ میں 13 کروڑ روپے اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم انٹرنل آفس کا بجٹ 89 کروڑ 54 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔قومی اسمبلی کے لیے 17 ارب 46 لاکھ ، سینیٹ کے لیے 9 ارب 67 لاکھ روپے، مجموعی طور پر 26 ارب 67 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے 5 ارب 35 کروڑ روپے، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر تنخواہوں اور مراعات کے لیے 39 کروڑ 34 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اپوزیشن لیڈر، سیکریٹریٹ تنخواہوں مراعات کے لیے 8 کروڑ 34 لاکھ روپے، قائمہ کمیٹیوں کے چئیرمینز کی تنخواہوں، مراعات کے لیے 1 ارب 68 کروڑ 91 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اس کے علاوہ سینیٹ ممبران کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے 1 ارب 22 کروڑ، چئیرمین ، ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سیکریٹریٹ کے لیے 21 کروڑ 89 لاکھ روپے، سینیٹ اپوزیشن لیڈر سیکرٹیرٹ کے لیے 10 کروڑ 48 لاکھ روپے، سینیٹ قائمہ کمیٹیوں کے چئیرمینز کے لیے 1 ارب 58 کروڑ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…