جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کتا کاٹ لے تو کیا کریں؟ سندھ حکومت کا شہریوں کو اہم پیغام

datetime 4  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے عوام کو کتے کے کاٹنے کے واقعات کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے آگاہی مہم جاری کی ہے۔

حکومتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ کتے کے کاٹنے کو معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ریبیز جیسی خطرناک اور جان لیوا بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔حکام کے مطابق اگر کسی فرد کو کتا کاٹ لے تو گھبرانے کے بجائے فوری طور پر متاثرہ جگہ کو کم از کم 20 منٹ تک صاف پانی اور عام صابن سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔ ابتدائی صفائی کے بعد متاثرہ شخص کو بغیر تاخیر قریبی اسپتال یا اینٹی ریبیز سینٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ضروری ویکسین لگوائی جا سکے۔سندھ حکومت نے بتایا کہ عوام کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے صوبے بھر میں 278 اینٹی ریبیز یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جن میں 112 خصوصی ریفرل مراکز بھی شامل ہیں جہاں پیچیدہ اور سنگین نوعیت کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ شہری اپنے قریب ترین اینٹی ریبیز مرکز یا ریفرل سینٹر کی معلومات حاصل کرنے کے لیے ریسکیو 1122 سے رابطہ کر سکتے ہیں یا آن لائن دستیاب متعلقہ ویب سائٹ سے بھی رہنمائی لے سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ زخم کو فوری طور پر دھونا، بروقت طبی مدد حاصل کرنا اور ویکسین لگوانا ریبیز سے بچاؤ اور انسانی جان کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری اقدامات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…