جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پنجاب بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں یکم جون سے سمر کیمپس لگانے کی اجازت

datetime 30  مئی‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)محکمہ سکولز ایجوکیشن پنجاب نے صوبے بھر کے سرکاری اور نجی سکولوں میں یکم جون سے سمر کیمپس لگانے کی اجازت دے دی۔

محکمہ سکولز ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق سمر کیمپس یکم جون سے 30 جون تک جاری رہیں گے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سمر کیمپس صرف پیر سے جمعرات تک صبح 7 بجے سے 10 بجے تک لگائے جاسکیں گے جبکہ جمعہ کے روز سمر کیمپ بند رہیں گے۔حکام کے مطابق تمام کلاسز کے طلبہ سمر کیمپس میں شرکت کرسکیں گے تاہم شرکت لازمی نہیں ہوگی اور والدین کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ نجی سکول سمر کیمپ کے نام پر اضافی فیس وصول نہیں کرسکیں گے۔مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام سرگرمیاں کلاس رومز اور ان ڈور ماحول میں کرائی جائیں جبکہ سکول انتظامیہ ٹھنڈے پانی، صفائی، پنکھوں اور بجلی کے بیک اپ کی فراہمی یقینی بنائے۔

حکام کے مطابق سمر کیمپس میں شریک طلبہ کیلئے یونیفارم لازمی نہیں ہوگی اور موسم کے مطابق لباس پہننے کی اجازت دی جائے گی۔محکمہ سکولزایجوکیشن نے خبردار کیا ہے کہ حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…