جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعدگھی اور کوکنگ آئل بھی مہنگا

datetime 21  مئی‬‮  2026 |

مکو آ نہ (این این آئی)فیصل آباد سمیت ملک بھر میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے،

بنیادی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب روٹی، کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے،فیصل آباد میں روٹی کی قیمت بڑھ کر20 روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے شہریوں پر اضافی مالی دباؤ پڑا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ پہلے ہی محدود آمدنی میں گزارا مشکل تھا، اب روزمرہ خوراک بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔شہریوں کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گھریلو اخراجات پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکے ہیں، جس سے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں بھی10سے15 روپے فی لیٹر تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس اضافے نے نہ صرف گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے بلکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے خوراک کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے،اس صورتحال کے سب سے زیادہ اثرات دیہاڑی دار مزدوروں اور محدود آمدنی والے افراد پر پڑ رہے ہیں، جو پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہیں۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو بڑھتی مہنگائی کے اثرات سے کچھ ریلیف مل سکے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…