جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں 3 کروڑ روپے مالیت کے قیمتی بیل کی دھوم

datetime 11  مئی‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)مویشی منڈی میں 3 کروڑ روپے مالیت کے قیمتی بیل کی دھوم مچی ہوئی ہے اور اس بیل کو دیکھنے کے لیے شہریوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں عیدِ قربان کے لیے قربانی کے جانوروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ایڈمنسٹریٹر منڈی طارق تنولی نے بتایا کہ اب تک منڈی میں پہنچنے والے جانوروں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار تک پہنچ چکی ہے، منڈی میں چاروں صوبوں سے بیلوں، اونٹوں، دنبوں اور بکروں کی بڑی کھیپ روزانہ کی بنیاد پر پہنچ رہی ہے۔حب ساکران سے تعلق رکھنے والے بیوپاری کا لایا ہوا ایک منفرد اور قیمتی بیل منڈی میں “ٹاک آف دی ٹاؤن بنا ہوا ہے، 3 کروڑ روپے مالیت کے اس بیل کو دیکھنے کے لیے شہریوں کا تانتا بندھا ہوا ہے، جسے بیوپاری نے قدرت کا شاہکار قرار دیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر طارق تنولی نے بتایا کہ بیوپاریوں اور جانوروں کی سہولت کے لیے منڈی میں چوبیس گھنٹے بلاتعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے جانور کے لیے پینے کے پانی کی وافر مقدار ہر وقت دستیاب ہے۔انتظامیہ کے مطابق آنے والے دنوں میں جانوروں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس کے لیے منڈی میں جگہ اور سکیورٹی کے انتظامات کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…