جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی خفیہ ایجنسی کا’’مارخور‘‘ لوگو بنانے والے شہزادنواز کا مؤقف آگیا

datetime 5  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے مبینہ ’’مارخور‘‘ لوگو کے خالق شہزاد نواز سے منسوب ایک پرانا انٹرویو دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں انہوں نے اس ڈیزائن کے پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔

انٹرویو میں شہزاد نواز کا کہنا تھا کہ وہ خود کو قومی خدمت کا حصہ سمجھتے ہیں اور اسی جذبے کے تحت انہوں نے یہ کام انجام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملٹری کالج میں کامیاب نہ ہونے کے بعد ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید ابھرنے کا موقع ملا، جس کے بعد انہوں نے ایک مختلف انداز میں ملک کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ وہ اپنے خاندان میں واحد سویلین تھے، اس لیے انہوں نے ایسا کام کرنے کا ارادہ کیا جو روایتی فوجی خدمات سے ہٹ کر ہو، اور اسی سوچ کے تحت انہیں یہ موقع ملا جسے انہوں نے فخر کے ساتھ قبول کیا۔لوگو میں مارخور کے انتخاب کے حوالے سے شہزاد نواز نے بتایا کہ انہوں نے مختلف عالمی خفیہ اداروں جیسے سی آئی اے، موساد، این ڈی ایس اور ایم آئی سکس کے لوگوز کا جائزہ لیا۔

ان کے مطابق ابتدائی ڈیزائن آئی ایس پی آر کے لوگو سے ملتا جلتا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے قومی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے مارخور کو شامل کیا، کیونکہ یہ پاکستان کا قومی جانور ہے اور اپنی خاص خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مارخور کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ سانپ کو بھی شکار کر لیتا ہے، جسے انہوں نے علامتی طور پر استعمال کیا۔ تاہم اس انتخاب پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔

شہزاد نواز نے کہا کہ جب انہوں نے یہ ڈیزائن سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو اس کے ساتھ انہوں نے مارخور کی اسی خصوصیت کا حوالہ بھی دیا تھا، جس نے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…