بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

زیرِ سمندر کیبل کی مرمت، انٹرنیٹ سروس سست روی کا شکار

datetime 15  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو چکا ہے

جو 20 اپریل تک جاری رہے گا۔کمپنی کے مطابق اس دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو خاص طور پر شام کے اوقات میں سروس کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پی ٹی سی ایل نے بتایا کہ وہ پاکستان کو عالمی انٹرنیٹ سے منسلک رکھنے کے لیے تین اہم زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کا انتظام کرتی ہے، جو ملکی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کا اہم حصہ ہیں۔پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر چھ سب میرین کیبل سسٹمز فعال ہیں، جن میں پی ٹی سی ایل کے تین، ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے دو، جبکہ ایک کیبل سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل شامل ہے۔ان تمام کیبل سسٹمز کی مجموعی گنجائش تقریباً 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے جبکہ ملک میں اس وقت انٹرنیٹ کا استعمال 7 سے 8 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

ماہرین کے مطابق مرمت کے دوران متبادل راستوں پر ٹریفک منتقل کی جاتی ہے، جس کے باعث عارضی طور پر انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، تاہم مرمت مکمل ہونے کے بعد سروس معمول پر آ جائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…