اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر خرم مرزا کا کہنا ہے کہ عمران خان کی آنکھ سے متعلق جس بیماری کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس کا مکمل علاج جیل کے اندر ممکن نہیں۔
ان کے مطابق اس مرض کے لیے مریض کو باقاعدہ آپریشن تھیٹر اور جدید طبی سہولیات والے اسپتال منتقل کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔اڈیالہ جیل کے باہر شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹر عاصم یوسف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خرم مرزا نے عمران خان کی آنکھ کے علاج پر اپنی رائے دی۔ ڈاکٹر خرم مرزا لاہور کے حمید لطیف اسپتال میں بطور آئی اسپیشلسٹ خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ معائنے کے لیے ضروری آلات ساتھ لائے ہیں، تاہم ان آلات سے صرف ابتدائی جانچ ممکن ہے، مکمل علاج کے لیے بھاری اور جدید مشینری درکار ہوتی ہے جو صرف اسپتال میں دستیاب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق انہوں نے ذاتی طور پر عمران خان کا معائنہ نہیں کیا، لیکن موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ انہیں سی آر وی او (CRVO) کی بیماری لاحق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس مرض میں عموماً سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی، تاہم مریض کو مخصوص انجیکشنز اور مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
عام طور پر تین انجیکشن لگائے جاتے ہیں، لیکن بیماری کی شدت کے مطابق انجیکشنز کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انجیکشنز کے بعد بھی مریض کو طویل عرصے تک زیرِ نگرانی رکھنا ضروری ہوتا ہے، جو بعض اوقات دو سے تین سال تک جاری رہتا ہے۔















































