بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، ریپ پوری دنیا میں ہوتے ہیں، لیکن لاہور لندن سے زیادہ محفوظ ہے: طلال چوہدری

datetime 29  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور جرائم کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں، تاہم ان کے مطابق لاہور جیسے شہر کئی عالمی دارالحکومتوں سے زیادہ محفوظ ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں گاڑیوں پر کالے شیشوں کے استعمال سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بیرونِ ملک مخصوص شرائط کے تحت اضافی فیس ادا کر کے کالے شیشوں کی اجازت دی جاتی ہے، لہٰذا اگر کوئی فرد سیکیورٹی یا ذاتی شوق کے تحت ایسا کرنا چاہتا ہے تو فیس کا نظام ہونا چاہیے۔چیئرمین نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ کمیٹی کی سابقہ میٹنگ میں واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ پالیسی بننے تک کارروائی نہ کی جائے، اس کے باوجود شہریوں پر 50 ہزار روپے تک کے جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ اس پر سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ اس معاملے پر کمیٹی کی رہنمائی درکار ہے کیونکہ اس حوالے سے نہ وفاق اور نہ ہی صوبوں میں کوئی واضح پالیسی موجود ہے۔ چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ جب پالیسی ہی نہیں تو جرمانے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں؟ جس پر وزیر مملکت نے جواب دیا کہ ایکسائز کے موجودہ قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ایک دہائی قبل کالے شیشوں کے اجازت نامے جاری کیے جاتے تھے، تاہم ان کا غلط استعمال شروع ہو گیا۔ ان کے مطابق اب کالے شیشے فیشن بن چکے ہیں اور اکثر لوگ جلدی بیماری کا بہانہ بناتے ہیں، جبکہ قانون میں 50 ہزار روپے جرمانے کی شق پہلے سے موجود ہے۔اجلاس کے دوران کمیٹی رکن ثمینہ ممتاز نے سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس عوام کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کچے کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیا جہاں مبینہ طور پر پولیس اہلکار ایک بچی کے ساتھ زیادتی میں ملوث پائے گئے، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث کمیٹی کا ایک رکن بھی شہید ہو چکا ہے۔

اس موقع پر سینیٹر طلال چوہدری نے ایک بار پھر مؤقف اپنایا کہ پاکستان کو مجموعی طور پر غیر محفوظ کہنا درست نہیں، جس پر سینیٹر طلحہ محمود نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپر دیر جیسے علاقوں میں لوگوں کو روک کر قتل کیا جا رہا ہے، ایسے حالات میں پاکستان کو لندن یا نیویارک سے زیادہ محفوظ قرار دینا زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…