بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی ،سنگین غفلت،2 تھانوں نے حدود کا تنازع بنا کر بچی کے اغوا میں ملوث ملزمان کو چھوڑ دیا

datetime 22  جنوری‬‮  2026 |

راولپنڈی(این این آئی)2 تھانوں نے حدود کا تنازع بنا کر بچی کے اغوا میں ملوث ملزمان کو چھوڑ دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق تھانہ کینٹ اور تھانہ سول لائن کے ایس ایچ اوز اور عملے کی مبینہ سنگین غفلت سامنے آنے پر سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے سخت نوٹس لے لیا ہے،واقعہ ایک بچی کے مبینہ اغوا سے متعلق ہے جس میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے بغیر حدود کے تنازع کو بنیاد بنا کر انہیں چھوڑ دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ڈولفن فورس کی ٹیم نے قاسم مارکیٹ کے قریب ایک مشکوک کار کو روک کر چیک کرنے کی کوشش کی تو ملزمان گاڑی سمیت فرار ہو گئے۔ ڈولفن فورس نے تعاقب کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کے بعد گاڑی کو روکا، جہاں 2 نوجوان لڑکے ایک ماسک فروخت کرنے والی بچی کے ساتھ گاڑی میں پائے گئے،بچی کے حوالے سے خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر ڈولفن ٹیم نے بچی اور دونوں ملزمان کو تھانہ کینٹ پولیس کے حوالے کر دیا۔تھانہ کینٹ پولیس نے بچی سے پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ وہ میڑو اسٹیشن کے پاس گھوم پھر کر ماسک اور دیگر اشیا فروخت کرتی ہے۔

تھانہ کینٹ کے ڈیوٹی آفیسر نے حدود کو تھانہ سول لائن کی قرار دیتے ہوئے معاملہ اور ملزمان تھانہ سول لائن منتقل کر دیے۔ تھانہ سول لائن پولیس نے بچی کا بیان لیا جس میں اس نے بتایا کہ ملزمان نے کہا تھا کہ وہ غازی آباد کے رہنے والے ہیں اور اسے بھی اتار دیں گے، جس پر وہ ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔تھانہ سول لائن کے ڈیوٹی آفیسر نے تمام معاملے کی تصدیق کیے بغیر محض بچی کے بیان پر ملزمان کو چھوڑ دیا اور کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی۔

ہوائی فائرنگ اور بچی سے متعلق معاملہ سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کے نوٹس میں آیا تو انہوں نے ڈی ایس پی سول لائن اصغر گورایہ کو انکوائری کا حکم دیا۔بعد ازاں انکوائری میں تمام باتیں درست ثابت ہونے پر سی پی او راولپنڈی نے تھانہ کینٹ کی ایس ایچ او انسپکٹر نور العین اور تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او ناصر شاہ کے خلاف کارروائی کی۔ اسی طرح دونوں تھانوں کے ڈیوٹی آفیسرز اور محررز کو بھی معطل کر دیا گیا۔سی پی او راولپنڈی کے احکامات پر پولیس نے دونوں ملزمان کو دوبارہ ٹریس کر کے گرفتار کیا اور اغوا کے جرم میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جب کہ ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے کہا کہ محکمہ پولیس میں فرائض سے غفلت اور لاپروائی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ پولیس افسران کو اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری کے ساتھ سرانجام دینی ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…