بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

حملے کے بعد شہزاد اکبر کا بیان سامنے آ گیا، سوشل میڈیا پر وائرل تصویر جعلی قرار

datetime 26  دسمبر‬‮  2025 |

لندن (این این آئی)برطانیہ میں نامعلوم شخص کی طرف سے کیے گئے حملے کے بعد شہزاد اکبر کا بیان سامنے آ گیا جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر وائرل اپنی تصویر کو جعلی قرار دیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں معاون خصوصی برائے احتساب رہنے والے شہزاد اکبر نامعلوم شخص کے حملے میں زخمی ہوئے تھے، جس پر انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ حملے کے نتیجے میں ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹی ہے اور چہرے پر بھی متعدد زخم آئے ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔شہزاد اکبر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان کے زخمی چہرے کی تصویر جعلی ہے اور اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنایا گیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ اصل واقعہ اس تصویر سے مختلف ہے اور اس حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حملہ آور بظاہر کنسٹرکشن ورکر یا کوڑا اٹھانے والا محسوس ہو رہا تھا، جس نے پہلے ان کے نام کی تصدیق کی اور پھر اچانک حملہ کر دیا۔ ایسی بزدلانہ کارروائیاں انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ پولیس حملہ آور اور حملہ کروانے والوں کی تلاش میں ہے اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس تفتیش کے باعث سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر کرنے سے معذرت کی اور قانون پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔انہوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انگلینڈ کو ہر فرد کے لیے محفوظ بنایا جائے، چاہے اختلاف رکھنے والے ہی کیوں نہ ہوں۔واضح رہے کہ اس سے قبل 2023ء میں بھی برطانوی دارالحکومت لندن میں شہزاد اکبر مبینہ تیزاب حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…