بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھیک مانگنے پر مختلف ممالک سے ہزاروں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیے جانیکا انکشاف

datetime 17  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)دنیا کے مختلف ممالک سے بھیک مانگنے پر ہزاروں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی آغا رفیع اللہ کی سربراہی میں ہوا۔ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سال 51 ہزار پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے آف لوڈ کیا گیا، سب سے زیادہ 24 ہزار افراد سعودی عرب نے بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیے جبکہ اس سال یو اے ای نے 6 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا اور آزربیجان سے بھی ڈھائی ہزار پاکستانی بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔

انہوں نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا کہ جو لوگ عمرے کا نام لیکر یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں ثبوت کے ساتھ آف لوڈ کیا، عمرے کے نام پر لوگوں کے پاس یورپ جانے کے ڈاکیومنٹس تھے تب انہیں آف لوڈ کیا۔قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سال 24 ہزار افراد کمبوڈیا گئے جس میں سے 12 ہزار افراد تاحال واپس نہیں آئے، برما میں سیاحتی ویزے پر 4 ہزار افراد گے لیکن ڈھائی ہزار واپس نہیں آئے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ غیرقانونی افراد کو روکنے سے پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ 118 سے 92 نمبر پر آئی، گزشتہ برسوں میں غیر قانونی جانے والے افراد میں پاکستان ٹاپ 5 ملکوں میں تھا لیکن اب ہماری پالیسیوں سے پاکستان ٹاپ فائیو ملکوں سے نکل گیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ گزشتہ برس 8 ہزار افراد غیرقانونی طور پر یورپ گئے جبکہ اس سال یہ تعداد 4 ہزار ہو گئی ہے، مجموعی طور پر 56 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر سعودی عرب نے ڈی پورٹ کیا۔انہوں نے بتایا کہ دبئی اور جرمنی نے ہمارے سرکاری پاسپورٹ پر ویزا فری کر دیا ہے، ایمی ایپلی کیشن جنوری کے وسط میں لانچ کر دی جائے گی، ایمی ایپلی کیشن میں بیرون ملک جانے والے روانگی سے 24 گھنٹے قبل امیگریشن کرالیں گے۔ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ زمبابوے میں ہمارے سفیر نے بتایا ایتھوپیا اور زیمبیا سے غیر قانونی طریقے سے لوگ یورپ جا رہے ہیں، ایک جعلی فٹبال کلب نے ٹیم کو جاپان بھیجا، ایک لنگڑا شخص بھی فٹبال ٹیم کے ساتھ چلاگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…