بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی ذمہ داری جیش الہندنے قبول کرلی

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی ذمہ داری جیش الہند نامی تنظیم نے قبول کرلی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نورولی محسود نے دیا، دہشت گرد پوری کارروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل پیرا تھے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی خارجی زاہد نے کی، خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری جیش الہند کے نام سے قبول کیـسیکورٹی ذرائع کے مطابق خارجی نورولی فتنہ الخوارج سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا تھا، اِسی لئے حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں خارجی بار بار جیش الہند کا نام لیتا رہا، افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج جیش الہند کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کر رہا ہے تا کے اصل شناحت سامنے نہ آئے، اس حملے کیلئے تمام سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا۔جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے۔کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سیکورٹی خدشات بڑھانا تھا جو بھارتی ایجنسی را کی ڈیمانڈ تھی، حملے میں مارے گئے افغان دہشتگردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر د یئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…