بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بس بہت ہوگیا ،افغانستان کو بتانا ہوگا کہ دہشتگردی اب ناقابل برداشت ہے، خواجہ آصف

datetime 10  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بس بہت ہو گیا، اب افغانستان سے بات کرنا ہوگی، افغانستان کو بتانا ہوگا کہ دہشتگردی اب ناقابل برداشت ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سیاست ہوتی رہے گی یہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے، ایک وفد کو افغان حکام سے بات کرنے کے لیے کابل بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ 40 سے 50 سالوں سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں رہائش پذیر ہیں، یہاں موجود افغان مہاجرین بڑے بڑے کاروبار کر رہے ہیں، جس مٹی سے ان کو فائدہ مل رہا ہے اس ملک کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں، یہ اب برداشت نہیں ہوگا،ان لوگوں کو بھی جواب دینا ہوگا، جو ان لوگوں کو محفوظ پناہ گاہ دے رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو ان واقعات کی مذمت تک نہیں کرتے، یہ عمل قابل قبول نہیں ہے، ہمارے بچے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور یہاں سیاسی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پر فرض بنتا ہے کہ پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنے اختلافات کو ختم کر کے انہیں سپورٹ کریں، ہماری افواج نے جس طرح بھارت کو شکست دی ہے، وہ آج بھی اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔وفاقی وزیر دفاع نے کہاکہ یہ سب کچھ افواج پاکستان کی وجہ سے ممکن ہوا اور پاکستان کو دنیا بھر میں ایک نیا مقام ملا، یہ صرف اور صرف جانوں کی قربانیوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، اس ایک ایشو پر ہمیں یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے، پاکستان کی حفاظت، پاکستان کا وجود اول ہے، باقی سارے مسائل بعد میں آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…