منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ہائی ویز کی بندش؛ دھوپ اور گرمی میں پھنسی ادویات صحت عامہ کیلیے خطرہ بن گئیں

datetime 25  اپریل‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)نہروں کے معاملے پر 6 روز سے جاری دھرنے اور ہائی ویز کی بندش سے ادویہ اور ان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کئی روز سے دھوپ اور شدید گرمی میں پھنسے رہنے کی وجہ سے ادویہ کا بڑا اسٹاک اور کیمیکلز اپنی افادیت کھو سکتے ہیں، جبکہ اس اسٹاک کے مارکیٹ میں پہنچنے سے صحت عامہ کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

سندھ پنجاب بارڈر پر رکے ہوئے کنٹینرز اور ٹرکوں میں ادویہ اور ادویہ سازی کے کیمیکلز بھی شامل ہیں جن کی کول چین متاثر ہونے سے معیار پر سوال اٹھ گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق اتنی طویل مدت تک دھوپ اور گرمی میں موجود ادویہ اور ادویہ سازی کے کیمیکلز صحت عامہ کیلیے خطرہ ہیں۔ ادویہ اور کیمیکلز کا معیار متاثر ہونے کی وجہ سے یہ مریضوں کیلیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ کیمیکلز سے تیار ادویہ بھی جان بچانے کے بجائے جانیں لینے کا باعث بن سکتی ہیں۔صارفین کے نمائندوں اور ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائی ویز کی بندش کے دوران متاثرہ ادویہ اور ادویہ سازی کے اسٹاک کو مارکیٹ تک پہنچنے سے روکا جائے اور ادویہ ساز کمپنیوں سے ریکارڈ حاصل کرکے اسٹاک کو قبضے میں لے کر تلف کیا جائے۔

سٹیزن ہیلتھ فانڈیشن کے ترجمان محمد واصل کے مطابق گرمی اور نمی کی زیادتی سے ادویہ میں موجود کیمیکلز کی ساخت خراب ہوسکتی ہے، جس سے دوا کم مثر یا غیر مثر ہوجاتی ہے جبکہ بعض کیسز میں زہریلے بائی پروڈکٹس بھی بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فارماکولوجیکل اثرات میں بھی کمی آسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ایک دوا 25 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کی مخصوص رینج میں محفوظ کی گئی ہو اور اس پر مسلسل 35 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت اثر انداز ہو، تو اس کی خوراک کی تاثیر میں کمی واقع ہوسکتی ہے، بالخصوص سیرپ اور سسپنیشنز گاڑھے ہوسکتے ہیں۔ گرمی کی شدت سے بلسٹر پیکنگ یا بوتلوں کی سیلنگ کمزور ہوسکتی ہے، جس سے دوا میں ہوا یا نمی داخل ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) اور ڈبلیو ایچ او کے معیارکے مطابق عام ادویات کو 15 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان محفوظ رکھا جانا چاہیے، ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھنے کا مطلب زیادہ سے زیادہ 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ تاہم ان دنوں پنجاب اور سندھ کے بارڈر پر درجہ حرارت ان دونوں مقررہ حدوں سے کہیں زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ حساس معاملہ ویکسینز یا انسولین کا ہے، جنہیں منفی 2 سے زیادہ سے زیادہ 8ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھنا لازم ہے۔

ماہرین نے کہا کہ اگر ادویہ کو 6 دن تک 35-45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں رکھا جائے تو کچھ ادویہ جیسے اینٹی بایوٹکس، ہارمونز، انسولین یا آنکھوں کے قطرے گرمی سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور استعمال کے قابل نہیں رہتے۔ عام ادویہ جیسے پیناڈول یا وٹامنز بھی اثر کھو سکتے ہیں۔ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ راستے میں پھنسے ہوئے اسٹاک کو نگرانی میں لیا جائے اور لیباریٹری ٹیسٹ کرکے اس کی افادیت کی تصدیق کی جائے اور معیار پر پورا نہ اترنے والی ادویہ کو تلف کیا جائے تاکہ ان کے استعمال سے انسانی جانوں کے نقصان کے امکان کو ختم کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…