جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات سامنے آگئیں، 20 سے زائد شقیں شامل

datetime 16  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں آئینی ترامیم پیش کیے جانے سے قبل مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات سامنے آگئیں جس میں 20 سے زائد شقیں شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ آئینی ترامیم میں 20 سے زائد شقیں شامل ہیں، آئین کی شقیں 51، 63، 175، 187 میں ترمیم شامل ہے۔

بلوچستان اسمبلی کی نمائندگی میں اضافے کی ترمیم بھی شامل کی گئی ہے، بلوچستان اسمبلی کی سیٹیں 65 سے بڑھا کر 81 کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔آئین کے آرٹیکل 63 میں ترامیم شامل ہے،منحرف اراکین کا ووٹ، آرٹیکل 63 میں ترمیم بھی شامل ہے۔ آئینی عدالت کے فیصلے پر اپیل آئینی عدالت میں سنی جائے گی۔ آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانے کا امکان ہے۔ آئینی عدالت میں آرٹیکل 184، 185، 186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوگی۔ہائیکورٹ کے ججز کو دوسرے صوبوں کی ہائیکورٹس میں ٹرانسفر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے،ہائیکورٹ کے ججز کو دوسرے صوبوں کی ہائیکورٹس میں ٹرانسفر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کی تقرری، سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز کے پینل سے ہوگی۔ حکومت سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز میں سے چیف جسٹس لگائیگی،آئینی عدالت کے باقی 4 ججز بھی حکومت تعینات کرے گی۔ سپریم کورٹ، ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی کیلیے جوڈیشل کمیشن، پارلیمانی کمیٹی کو اکٹھا کیا جائے گا۔خیال رہے کہ آئین کا آرٹیکل 63 ڈی فیکشن کلاز پارٹی سربراہ کے اختیار سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 51 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 175 سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 181 ججز کی عارضی تقرری سے متعلق ہے، آرٹیکل 184 ازخود نوٹس اختیار سے متعلق ہے، آرٹیکل 185 فیصلوں پر اپیل سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 186 صدارتی وضاحت پر سپریم کورٹ کے اختیار سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 187 سپریم کورٹ، ہائی کورٹس کی تشکیل، ججز کی تقرریوں سے متعلق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…