ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

ملزم نے اپنی اہلیہ اور تین بچوں کو قتل کر کے خود کشی کر لی

datetime 23  جنوری‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)شہر قائد میں ملزم نے اپنی اہلیہ اور تین بچوں کو قتل کر کے خود کشی کر لی۔واقعہ شاہراہ فیصل پر فلک ناز اپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں سے پولیس کو 5 لاشیں ملی ہیں، ایس ایس پی ملیر طارق الہی مستوئی بھی اطلاع ملتے ہی فوری موقع پر پہنچ گئے۔ایس ایس پی کے مطابق احسن رضا رضوی نامی شخص نے اپنی بیوی ندا رضوی اور تین بچوں جبرائیل، میکائیل اور بچی ام ہانی کو قتل کر کے خودکشی کی ہے۔خودکشی کرنے والا احسن رضا گارمنٹس کا کاروبار کرتا تھا، 3، 4 ماہ قبل متوفی کو کاروبار میں نقصان ہوا تھا، جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 3 سے 7 سال کے درمیان ہیں۔ملزم نے خود کشی سے پہلے ڈائری پر گھر والوں کے ایک نوٹ بھی چھوڑا، نوٹ انگریزی زبان میں تحریر کیا گیا ہے، ملزم نے اپنے لیپ ٹاپ میں محفوظ فائل کھولنے کی وصیت کی۔

نوٹ میں کہا گیا ہے کہ میں سید احسن رضا رضوی خود کشی اور بیوی بچوں کا قتل کر رہا ہوں، لیپ ٹاپ کے ڈیسک ٹاپ پر ورڈ کی فائل ضرور دیکھ لینا، ورڈ کی فائل میں میں نے سب ٹوٹل کر دیا ہے۔ملزم کی جانب سے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ میرے بچے اور ندا شہید ہیں، انہیں پتہ بھی نہیں تھا کہ میں ایسا کچھ کرنے والا ہوں۔متوفی نے لکھا کہ لو یو ابو، امی، باجی اور دیگر رشتے داروں کو اللہ حافظ، سوری سمیع میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ایس ایچ او کے مطابق احسن رضا نے اپنی بیوی اور بچوں کو سر پر گولیاں مار کر قتل کیا ہے، گھر کے اندر سے پستول بھی ملا ہے۔

ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے کو تیز دھار آلے سے قتل کا واقعہ قرار دیا تھا، شواہد جمع کرتے ہوئے گولیوں سے مارے جانے کی تصدیق ہوئی، فرانزک اور کرائم سین کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ملزم کے پڑوسی نے بتایا کہ احسن رضا مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پریشان تھا، پڑوسی متوفی اپنی والدہ کے دئیے ہوئے گھر میں رہ رہا تھا۔بلڈنگ یونین کے صدر خالد گجر نے بتایا کہ ملزم کے گھر کا کرایہ متوفیہ ندا کی والدہ ادا کر رہی تھیں، متوفی کے بچے 3، 4 دن سے سکول بھی نہیں جا رہے تھے۔خالد گجر نے بتایا کہ احسن رضا 6 ماہ قبل ہی اس اپارٹمنٹ میں منتقل ہوا تھا، ملزم معاشی پریشانیوں سے تنگ تھا، بیروزگاری اور مالی تنگدستی کی وجہ سے احسن رضا نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…