ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

مخدوم جاوید ہاشمی کا الیکشن سے دستبردار ہونے ، عمران خان کی رہائی کی تحریک چلانے کا اعلان

datetime 23  جنوری‬‮  2024 |

ملتان (این این آئی)سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے این اے 149کے الیکشن سے دستبردار ہونے اور عمران خان کی رہائی کی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاکہ ریاستی اداروں کے خلاف جب بھی کوئی فرنٹ پر آ کر لڑتا ہے میں اس کا ساتھ دیتا ہوں،2018میںجب نوازشریف کو الیکشن سے باہر رکھا جا رہا تھا تو میں نے نواز شریف کا ساتھ دیا،آج عمران خان کوالیکشن سے باہررکھنے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر این اے 149کے الیکشن سے دستبرہوکربانی پی ٹی آئی کاساتھ دینے کا فیصلہ کیاہے ،آج کے بعد میں حلقے میں ووٹ نہیں مانگنے جائوں گا بلکہ عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد کروں گا۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاکہ تمام سیاسی پارٹیوں کو عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنا چاہئے،یہ الیکشن بالکل فری اینڈ فیئر نہیں ہیںجب تک اس میں عمران خان کھل کر الیکشن نہیں لڑتے،میں عمران خان کیلئے جدوجہد اس سے کچھ پانے کیلئے نہیں کر رہا، وہ مجھے کیا دے سکتا ہے وہ تو خود جیل میں ہے، میں اس دھرتی کا بیٹا ہوں،میرے آبائو اجداد ایک ہزار سال سے یہاں ہیں،میں تو اپنی مٹی کا قرض اتار رہا ہوں،میں عمران خان کے اقتدار میں اس کا حصہ نہیں بنوں گا،صرف پورے ملک میں اس کی رہائی کی آواز اٹھائوں گا۔

انہوں نے کہا کہ سائفر کیس کچھ بھی نہیں ہے ،کیا شاہ محمود قریشی ملک کا غدار ہے؟ اگرچہ ہم مخالف الیکشن لڑتے ہیں لیکن ہم ان کے کردار پر ایسی بات نہیں کرسکتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اقتدار کیلئے سمجھوتہ کر لیا ہے،جہانگیر ترین سیاستدان نہیں ہیں اس سے بہتر تھا کہ این اے 149میں شیخ طارق رشید یا کسی اور مسلم لیگی کوٹکٹ دیدیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلم لیگی ہوں اور مرتے دم تک مسلم لیگی رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…