جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کچھ حلقوں کیلئے بیلٹ پیپر کی چھپائی روک دی گئی

datetime 20  جنوری‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے بعض حلقوں کے لیے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ روک دی گئی ہے۔نجی ٹی و ی کے مطابق عہدیدار کی جانب سے اس بات کا انکشاف خصوصی گفتگو میں کیا گیا ۔اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خبردار کیا تھا کہ انتخابی نشانات میں تبدیلی کے لیے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے عمل کو روکنے سے انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ عدالتوں میں متعدد مقدمات کے زیر التوا ہونے کی بات کو جواز بتاتے ہوئے الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرنے کی اپنی مقررہ تاریخ پر بھی عمل نہیں کیا تھا۔22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے نظرثانی شدہ پول شیڈول جاری کیاجس کے مطابق 13 جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشانات کی حتمی الاٹمنٹ کی جانی تھی تاہم انتخابی نشانات کے اجرا کی مقررہ تاریخ گزرنے کے کئی روز بعد بھی الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری نہیں کی، الیکشن کمیشن نے 15 دسمبر کے نوٹیفکیشن میں بھی ترمیم نہیں کی جس میں 12 جنوری کو امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کرنے کا کہا گیا تھا۔تین روز قبل الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ انتخابی نشانات مختلف فورمز کے ذریعے تبدیل کیے جا رہے ہیں جب کہ 3 پرنٹنگ کارپوریشنوں کو بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا حکم پہلے ہی دیا جا چکا تھا اور چھپائی کا کام بھی ایک دن قبل شروع کر دیا تھا۔

اگرچہ نشانات کی الاٹمنٹ اب مکمل ہو چکی ہے لیکن امیدواروں کی حتمی فہرست اب تک جاری نہیں کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کی جانب سے رابطہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے ترجمان سید ندیم حیدر نے کہا کہ حتمی فہرست آئندہ چند روز میں جاری کر دی جائے گی۔جب پوچھا گیا کہ اگر الیکشن کمیشن کو قانونی مقدمات کے چیلنجز کا سامنا ہے تو بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیسے کی جا رہی ہے تو ایک عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں بعض حلقوں کے بیلٹ پیپر کی چھپائی روک دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ معاملات کو منظم کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ مسائل بڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا کہ یہ وہ چیلنجز تھے جن کا ذکر پہلے کیا گیا تھا جہاں کچھ حلقوں میں انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔عہدیدار نے کہا کہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ انتخابات سے متعلق 200 کے قریب مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں جن کی وجہ سے تمام انتظامی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے لیے وقت کی کمی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر متعلقہ عدالتوں کے رجسٹرار کے ساتھ بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…