جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

datetime 10  جنوری‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف (مرحوم) کی اپیل مسترد کرتے ہوئے خصوصی عدالت کی سزا درست قرار دیدی اور فیصلے میں سزائے موت کو برقرار رکھا ہے جبکہ سپریم کورٹ کہا ہے کہ پرویز مشرف کے ورثاء نے متعدد نوٹسز پر بھی کیس کی پیروی نہیں کی، پرویز مشرف کی اپیل مسترد کی جاتی ہے ۔

بدھ کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا خصوصی عدالت کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ قانون کے منافی تھا۔سپریم کورٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 17 دسمبر 2019 کو سزا سنائی، انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل نمبر 785 دائر کی۔عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ پرویز مشرف کی جانب سے 16 جنوری 2020ء کو اپیل دائر ہوئی، سلمان صفدر نے بتایا کہ مشرف 5 فروری 2023ء کو انتقال کر گئے، یہ اپیل 10 نومبر 2023ء میں سماعت کیلئے مقرر ہوئی۔سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ عدالت نے مشرف کے قانونی ورثاء کو پاکستان اور بیرونِ ملک دستیاب ایڈریسز پر نوٹسز جاری کیے، سپریم کورٹ نے اخبارات میں نوٹسز بھی شائع کرائے۔قبل ازیں سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف سے متعلق کیسز کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کی۔جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی بینچ میں شامل تھے۔سماعت کے دوران توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے روسٹرم پر آکر کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے۔

عدالت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اپیل کے ساتھ ممکن ہے آئینی درخواستوں پر بھی آج ہی فیصلہ سنا دیں، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہئیں، ورثاء کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے، عدالت 561 اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اقدام کو سراہتا ہوں، پرویز مشرف کے ورثاء پاکستان میں مقیم نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے سلمان صفدر سے سوال کیا کہ آپ کے لاہور ہائیکورٹ پر تحفظات کیا ہیں؟سلمان صفدر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں مشرف ٹرائل والے جج کے سامنے سپریم کورٹ میں بھی پیش نہیں ہوتا، اس بارے میں آپ کے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا۔

اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے۔سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے، اس وقت کے وزیراعظم، وزیرِ قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے۔سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ اگر 1999ء کی ایمرجنسی کی تحقیقات ہوتیں تو 3 نومبر کا اقدام نہ ہوتا۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ 5 فروری 2023ء کو پرویز مشرف کا انتقال ہوگیا تھا، اپیل سماعت کے لیے مقرر ہونے کے بعد لواحقین سے متعدد بار رابطہ کیا، لواحقین نے میرے متعدد پیغامات کے باوجود جواب نہیں دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…