جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلودہ کیا جارہا ہے،مولانا طارق جمیل

datetime 8  جنوری‬‮  2024 |

مکوآنہ (این این آئی)معروف عالم دین ممتاز مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے کہاہے کہ نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلودہ کیا جارہا ہے ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں یہ لمحہ گہرے غور و فکر کا تقاضاکرتا ہے اس وقت سوشل میڈیا میں منفی پروپیگنڈے کو فروغ دیا جارہا ہے ہماری افواج شہداء کے خاندان اور تمام مذہبی اورسیاسی رہنماؤں کی دل آزاری کی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹ اور جعلی پروپیگنڈے کے فروغ کے بڑھتے ہوئے رحجان کے خاتمے کیلئے علماء کردار ادا کریں سوشل میڈیا کا منفی استعمال ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کے رحجان کوختم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تفصیلات کے مطابق ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ رو ز فیصل آباد اپنی رہائش گاہ پرچیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا اس ملاقات میں پیر جی خالد محمود قاسمی الحاج محمد اسماعیل مولانا ابراہیم عبداللہ نثار احمد بھی شریک تھے۔

اس موقع پرچیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سنجیدہ حلقوں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت کو اس پر غور کرنا ہو گا اور حکومت بھی اس سلسلہ میں قابل عمل لائحہ عمل تیارکرے اورتمام جماعتوں کو اس قسم کی حرکت کرنے والوں کی مذمت کرنی چاہئے ملک کے آئین جمہوری کلچر اور اسلامی تعلیمات کو مد نظررکھاجائے اس ففتھ جنریشن کے وار میں مضبوط حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی معلومات خود ساختہ پروپیگنڈے عوام میںمایوسی اور غیر یقینی کیفیات پیدا کرتی ہیں چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کی وفات پر ان سے اظہار تعزیت کی اور مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کروائیـ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…