جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

گوادر بندرگاہ نے روسی گندم کی درآمد کی پروسیسنگ کے تمام مراحل کامیابی سے طے کر کے آپریشنل قابلیت ثابت کردی

datetime 4  مئی‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گوادر( این این آئی)گوادر بندرگاہ نے روس سے درآمد کی گئی ساڑھے 4لاکھ میٹرک گندم کی پروسیسنگ کے تمام مراحل کامیابی سے طے کر کے اپنی آپریشنل قابلیت کو ثابت کر دیا ، روس سے 9بحری جہاز2 مارچ سے 03مئی تک ساڑھے 4لاکھ میٹرک ٹن گندم لے کر لنگر انداز ہوئے ۔گوادر شپنگ کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار نے گوادر پرو کو بتایا کہ گوادر پورٹ نے گندم کی ترسیل اور پروسیسنگ میں پاکستان کی دیگر بندرگاہوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ دیگر بندرگاہوں جیسے کے پی ٹی اور قاسم بندرگاہوں کے مقابلے میں زیادہ کفایتی ہے کیونکہ ان دو بندرگاہوں پر ہمیشہ بھیڑ رہتی ہے اور جہازوں کو بار بار ڈیمریج اور زیادہ اسٹوریج چارجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر بندر گاہ پر کوئی ڈیمریج اور سٹوریج چارجز نہیں ہیں، ساتھ ہی ساتھ تیز ترین سٹیوڈورنگ سروسز بھی ہیں۔مارچ کے پہلے ہفتے میں پہلے بحری جہاز کے لنگر انداز ہونے کے بعد سے اخراج اور ترسیل کے تمام مراحل کامیابی سے طے پائے ، ہر قسم کی لوڈنگ، آف لوڈنگ اور نقل و حمل پاکستانی افرادی قوت کے ذریعے کی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ دستی ہینڈلنگ کے بجائے ویب پر مبنی ون کسٹم کلیئرنس سسٹم (WeBOC) کو گوادر بندرگاہ سے گندم کی پروسیسنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ گوادر بندر گاہ میں WeBOC نے پاکستان سنگل ونڈو (PSW) کے تحت تمام تجارتی طریقہ کار اور لاجسٹک خدمات کی آٹومیشن، معیاری کاری اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ، پاکستان کسٹمز اینڈ نیشنل لاجسٹکس سیل، گوادر فری زون، اور گوادر انٹرنیشنل ٹرمینلز لمیٹڈنے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا ۔گوادر انٹرنیشنل ٹرمینلز لمیٹڈ کے ایک اہلکار کے مطابق گوادر پورٹ کا استعمال کرتے ہوئے گندم کی درآمد ایک نیا سنگ میل ہے کیونکہ اس سے گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

بندرگاہوں اور جہاز رانی کی وزارت کے نمائندوں کا مشورہ ہے کہ گندم کی کامیاب ہینڈلنگ کے بعد حکومت اس بندرگاہ کو مزید بین الاقوامی ترسیل کے لیے استعمال کرے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت برآمدات اور درآمدات، کارگو کی ترسیل اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو یقینی بنا کر گوادر بندرگاہ کو سپورٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…